حکومت مشینوں سے زیادہ پیسے کیوں نہیں چھاپ کر غریبوں کو کروڑ پتی بنا سکتی؟

یہ سوال ہمیشہ سے ہر چھوٹے حتی کے بہت سے بڑے لوگوں کے زہنوں میں بھی گردش کرتا رہتا ہے کہ آخر کسی بھی غریب ملک کی گورنمنٹ زیادہ سارے پیسے کیوں نہیں چھاپ لیتی تاکہ اپنے سارے قرضے ادا کر سکے۔ اگر حکومت کے پاس پیسہ چھاپنے والی مشین ہے تو وہ اس سے بہت سے پیسے بنا کر اپنے ملک کی غریب عوام کو امیر کر دے تا کہ کوئی بھی بھوکا نہ رہے۔

کیا یہ کوئی ایسا آئیڈیا ہے جو کسی حومت کے یا کسی بندے کے ذہن میں نہ آیا ہوگا۔ یقینا یہ ایسا آئیڈیا نہیں ہے جو کوئی نہ سوچ سکتا ہو۔

اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم زمبابوے کی مثال لیں گے جس نے اسی بات کو سوچا اور سوچنے کی حد تک نہیں رکھا بلکہ اس کو کر دیکھایا۔ ان دنوں ان پر بہت قرضہ چڑھ چکا تھا اور ان کے پاس اتنا پیسہ بھی نہیں تھا کہ وہ حکومت کو چلا سکیں۔ ان کے صدر نے سوچا کہ کیوں نہ اتنا پیسہ بنا لیا جائے کہ اپنے قرضے کے ساتھ ساتھ سب لوگوں میں بھی بانٹ دیا جائے تاکہ ہر کوئی امیر بن سکے۔ چناچہ انھوں نے وہی کیا ، لیکن اس کا نتیجہ بلکل بر عکس نکلا۔

جب ہر بندے کے پاس پیسہ بیٹھے بٹھائے آنے لگا تو اس نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ جو لوگ فیکٹریوں، دوکانوں وغیرہ میں کام کرتے تھے جب ان کو گھر بیٹھے پیسے مل گئے تو انھیں کام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس طرح ہر چیز کی قیمت بڑھنے لگی۔ ہر دوسرے دن ایک چیز کی قیمت پہلے دن سے دوگنا ہو جاتی تھی جسکی وجہ سے لوگوں کو صرف ایک ٹافی یا بریڈ لینے کے لئے گاڑی بھر بھر کر پیسے لے جانے پڑتے۔ اتنے پیسے لے جانے اور رکھنے میں جب مشکل پیش آئی تو حکومت نے ایک ایک بلین، ایک ایک ٹریلین تاک کے نوٹ بنا ڈالے۔ ہر بچے بچے کے پاس جھولی بھر بھر کر پیسہ تھا لیکن چیزیں بھی اتنی ہی مہنگی تھیں۔

زمبابوے کا جی ڈی بی ریٹ تھوڑے ہی وقت میں بہت گر گیا اور حکومت کو اعلان کرنا پڑا کہ جس جس کے پاس پیسے ہیں وہ ان سب کو جلا دیں کیونکہ یہ اب کسی کام کے نہیں۔ اسکے بعد حکومت نے ڈالرز اور یوروز میں لین دین شروع کر دیا جو آج تک وہاں جاری ہے۔

یاد رہے، پرانے زمانے میں لوگ چیزوں کی ساتھ لین دین کرتے تھے، مطلب ایک چیز دے کر دوسری چیز لے لیا کرتے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے سونے سے تجارت کرنا شروع کر دی۔ حکومت نے لوگوں سے کہا کہ اگر آپ اپنا سونا ہمیں دے دیں تو ہم آپ کو اس کی ایک رسید دے دیں گے اور اس رسید کو آپ جب چاہیں ہمیں دکھا کر اپنا سونا لے سکتے ہیں اور اس کی گارنٹی حکومت کی ہے۔ لوگوں نے بنکس پر اعتبار کیا اور وہ رسیدیں رکھ لیں اور جب بھی کوئی چیز کسی سے خریدی وہ رسید بیچنے والے کو دے دی۔ اسطرح جب اس کو اپنی مطلوبہ رقم چاہیے ہوتی وہ رسید بنک کو دکھا کر سونا لے لیتا۔ وہی رسید اصل میں نوٹس ہیں جو ہم استعمال کرتے ہیں۔

جو نوٹس ہم استعمال کرتے ہیں اس کے برابر کا سونا بنک کے پاس رکھا ہے اگر اتنا مالیت کا سونا بنک کے پاس نہیں ہوگا تو پیسے کی مالیت کم ہو جائے گی اور پیسے کی قیمت گر جائے گی۔ جیسا کہ پاکستان کے ساتھ ہے ہم اتنا پیسہ چھاپ رہے ہیں جتنا ہمارے پاس سونا نہیں ہے۔

اگرپیسہ چھاپ کر ہر بندے کو دے دیا جائے تو کوئی بھی کام نہیں کرے گا ۔ ہر بندے کی خواہش ہوگی کہ وہ گاڑی خریدے کیونکہ اب اس کے پاس پیسہ ہے لیکن اب گاڑی بنانے والے نہیں ہیں یا کم ہیں اسطرح جب وہ گاڑی کم بن رہی ہے تو اسکی قیمت بڑہتی جائے گی۔

آپ بتائیے یہ بات آپ کو کس عمر میں سمجھ میں آئی کہ حکومت دھڑادھڑ پیسہ نہیں چھاپ سکتی۔ اپنی رائے کا اظہار کمینٹ میں لازمی کرئیے گا۔ اور اس پوسٹ کو ان لوگوں کے ساتھ شئیر کریں جنہیں اس بات کا ابھی بھی علم نہیں ہے۔