why animated films are expensive 216

کارٹون فلمیں عام فلموں سے مہنگی کیوں ہوتیں ہیں، اینی میشن فلم بنانے پر اخراجات

کارٹون چھوٹوں بڑوں دونوں کو دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ شروعات میں ہم ٹوم اینڈ جیری جیسے کمال کارٹون شوز دیکھا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے اینیمیٹڈ فلمز بھی دیکھنا شروع کر دیں۔ اِن فلموں نے ہمیں اپنے کمال ہاتھوں میں اِس انداز سے جکڑا کہ ہم اِس کی آغوش میں خوشی محسوس کرنے لگے۔ کارٹون فلموں نےآہستہ آہستہ ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اینیمیشن دیکھتے وقت ہمارے ذہن میں خیال آتے ہیں کہ اِس میں نہ کوئی ایکٹر ہے نہ مہنگی لوکیشن، تو اِس کو بنانا بھی سستا ہو گا اور اچھا خاصا کمانا بھی آسان۔ آج کے اِس آرٹیکل میں آپکو کارٹون شوز یا فلمز کے بارے میں ایسی معلومات ملیں گی جن کو جان کر آپکو سب سوالات کے جواب مل جائیں گے۔

اینی میشن کیاہے؟

اینیمیشن یا پھر کارٹون وہ فلمیں ہوتیں ہیں جن میں جو بھی ہم دیکھتے ہیں وہ سب ہاتھ سے یا کیمپیوٹر ٹیکنالوجی سے بنایا جاتا ہے۔شروعات میں کارٹونز ہاتھ سے ڈرائنگ کر کے بنائے جاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شو ہم دیکھا کرتے تھے مِکی ماؤس، اُس میں کریکٹر پہلے ڈرا کیے جاتے اور پھر اُن سب ڈرائنگز کو ایک ساتھ تیزی کے ساتھ دیکھایا جاتا، جس سے وہ تصویریں حرکت کرتیں معلوم ہوتیں تھیں۔ کریکٹر اگر چل رہا ہے تو اُس کے چلنے کی ڈرائنگ فریم در فریم یا تصویر در تصویر بنائی جاتی جیسے ایک تصویر میں اُس نے ایک پاؤں اٹھایا دوسری تصویر میں پاؤں ذرا سا گھمایا تیسری تصویر میں اُس کا چہرا ہلکا سا نیچے کی طرف ہوا وغیرہ ،اور پھر ایک سیکنڈ میں 24 تصویریں ایک ساتھ چلائیں جاتیں تھیں۔اگر آج بھی آپ یوٹیوب پر پرانی کورٹون فلمیں دیکھیں گےتو آپ کو ویڈیو رُک رُک کر چلتی دکھائی دے گی۔ ایک سیکنڈ میں جتنی زیادہ تصویریں یا فریم ہوں گے ویڈیو اتنی زیادہ سموتھ ہوتی ہے۔ اِس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کارٹون فلمز کو بنانا کتنا محنت طلب کام ہوتا ہے۔

لائیو ایکشن فلمز، جن میں اصل کردار کام کر رہے ہوتے ہیں بہت کم بجٹ اور وقت میں بنا لی جاتیں ہیں۔بہت سے لوگوں کا سوال ہوتا ہے کہ کارٹون فلمز میں کردار نہیں ہوتے، لوکیشن نہیں ہوتی وغیرہ۔ اِن فلموں میں کارٹون ایکٹر زکو آواز دینے کے لئے ایکٹرز ہوتے ہیں، ڈائریکڑ ہوتا ہے، سکرین پلے ہوتا ہے، ساؤنڈ ڈیزائنر ہوتا ہے، غرض اِس میں لائیو ایکشن فلمز کی طرح سب ڈیپارٹمنٹ کام کر رہے ہوتے ہیں۔چونکہ کارٹون کریکٹر کو پہلے ڈیزائن کرنا،اُس کے کپڑوں کو ڈیزائن کرنا،اُس کے بال کیسے ہوں گے، مسلز کیسے ہوں گے، پاؤں میں جوتے کیسے ہوں گے وغیرہ ہر چیز کو بنایا جاتا ہے، اس لئے کارٹونز فلموں کو بنانے میں عام فلموں سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔ایک کریکٹر تک کو ڈیزائن کرنے کے لئے درجنوں اینی میٹرز کام کر رہے ہوتے ہیں۔دنیا کا عام سا دستور ہے جس کام میں زیادہ وقت اور زیادہ محنت لگتی ہے وہ کام خود بہ خود مہنگا ہوتا چلا جاتا ہے۔

موشن کیپ چرنگ ٹیکنالوجی

کچھ وقت پہلے ایک نئی ٹیکنالوجی سی جی آئی اور اینی میشن کی دنیا میں متعارف ہوئی جسے موشن کیپ چرنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔اِس میں اصل لوگ موشن سینسرز اپنے جسم کے ساتھ لگا لیتے ہیں اور جیسے جیسے وہ چلتے ہیں، گھومتے ہیں یا حرکت کرتے ہیں ویسے ویسے کیمپیوٹر ز اُن کو ریکارڈ کر لیتا ہے ۔ اِس ٹیکنالوجی سے اینی میٹرز کا وقت بچ جاتا ہے۔ اگر پہلے اُسے کریکٹر کی چھوٹی سے چھوٹی حرکت کے لئے الگ سے ڈیزائن بنانا پڑتا تھا اب وہ سارا کام موشن سینسرز کر لیتے ہیں جس سے کریکٹر کے ایکسپریشنز اور موومنٹ پہلے سے بھی زیادہ اچھی دکھائی جا سکتی ہے۔ اِس ٹیکنالوجی کو بڑی بڑی فلموں جیسا کہ انڈگیم، پلینٹ آف دی ایپس،کِنگ کانگ وغیرہ۔ اِن فلموں میں جو حیوانات دکھائے جاتے تھے وہ اصل میں کوئی نہ کوئی آدمی ہوتا تھا۔ اُس آدمی کو سینسرز پہنا دئیے جاتے ہیں اور وہ اُسی حیوان یا جانور کی طرح ایکٹنگ کرتا ہے۔ایکٹنگ کیمپیوٹرز ریکارڈ کرلیتے ہیں اور بعد میں اینی میٹرز وہی موومنٹ ڈائینوسار، ایناکونڈا،کِنگ کانگ وغیرہ ڈیزائن کر کے اُن میں ڈال دی جاتی ہے۔ اِس ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد لوگوں نے سوال کِیا کیا اب اینی میٹرز کی جاب کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے؟ موشن کیپ چر میں جو بھی ڈیٹا ریکارڈ کیا جاتا ہے وہ سب را فارم میں ہوتا ہے جس کواینی میٹرز ساتھ پائیو کیمپیوٹرز پر بیٹھ کر سیٹ کرتے اور بعد میں اچھے سے ڈیزائن کر کے استعمال میں لاتے ہیں۔ اِس طرح اینی میٹرز کی جاب اِس ٹیکنالوجی سے کسی طرح بھی متاثر نہیں ہوتی، بلکہ اِس سے اَن کا وقت اور محنت کم ہونے کے ساتھ ساتھ بہتر نتائج حاصل کیے جا تے ہیں۔

کارٹون فلمز بنانے والے بڑے ادارے

پکزر اور ڈِزنی، آج کے دور کے دو بڑے کارٹونز فلمیں بنانے والے ادارے ہیں۔انہوں نے سیکڑوں فلمیں بنائیں اور کروڑوں ڈالرز کمائے۔ پکزر کمپنی کو ایک کارٹون فلم بنانے میں 4 سے 7سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ فلم کو بنانے کے لئے 600 سے بھی زائد کریٹر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ایک کارٹون فلم بنانے کے لئے سٹوری کریٹر،آرٹ ڈائریکٹر،سکرین پلے رائٹر،آرٹ ورک کریشن،ساؤنڈ اَفیکٹ، لے آوٹس،سٹوڈیو کاسٹ،سرور کاسٹ وغیرہ کا خرچ آتا ہے۔ سب سے مہنگی کارٹون فلم فروزن 2 کے جس کو ڈِزنی نے بنایا اور اُس کے ہر ایک سیکنڈ کو بنانے میں تقریبا 50ہزار ڈالرز کا خرچا آیا اور پوری فلم 260ملین ڈالرز میں بن کر تیا ر ہوئی تھی۔ اِس فلم نے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے 1بلین سے بھی زیادہ کمایا تھا۔

آخر کارٹون فلمیں کیوں؟

آخر پر ہم بات کریں گے کہ اگر کارٹون فلمز اتنی مہنگی اور وقت طلب ہوتیں ہیں تو اِن کو بنایا ہی کیوں جاتا ہے اِن میں فائدہ کیا ہے۔ اِس کا سب سے بڑا فائدہ ہے کہ آپ جیسی چاہیں ویسی لوکیشن بنا سکتے ہیں، ایکشن سینز بغیر کسی کی جان خطرے میں ڈالے دکھا سکتے ہیں۔اگر سٹوری اور اینی میشن کی وجہ سے ہٹ ہوگئی تو اچھا خاصہ پیسہ بھی چھاپ سکتے ہیں۔

امید ہے آپ کو کچھ نیا سیکھنے کو ملا ہو گا۔ اپنی پسند نا پسند کا اظہار نیچے ووٹ باکس میں کریں۔ انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو لائک کر کے نئے آرٹیکل کی نوٹیفیکیشن اپنے موبائیل یا لیپ ٹاپ پر آسانی سے حاصل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں