theory of evolution 307

لاکھوں سال پُرانے ڈھانچے کِس کے ہیں، آدمّ سے پہلے کون لوگ زمین پر تھے

انسان کے ارتقاء کی بات صرف سائنس ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر مذہب کرتا ہے۔اسلام میں عام طور پر جب انسانی دنیا کے وجود کا تذکرہ آتا ہے تو حضرت آدمؑ کا تذکرہ ذہن میں گھوم جاتا ہے۔ کچھ سال قبل جب کچھ ڈھانچے کھوجے گئے اور سائنس نے کاربن ڈیٹنگ کی مدد سے ثابت کیا کہ اِن ڈھانچوں کی عمر لاکھوں برس ہے تو بہت سے لوگ اپنے مذاہب سے کنارہ کش ہو گئے۔تعداد میں ایسے لوگ شامل ہیں جو مسلمان ہیں لیکن ایسے سائنسی سوالات جب ذہن میں ابھرتے ہیں تو کھلبلی سی مچ جاتی ہے۔آج ہم اِن سوالات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے، لیکن آگے بڑنے سے پہلے آرٹیکل میں بتائی گئی سب انفارمیشن ریسرچ کی دین ہے اسلئے 100فیصد اتفاق اور درستی کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔

غیر مسلموں کا اعتراض

غیر مسلموں کا اعتراض کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنانے سے پہلے پوچھا تھوڑی تھا کہ ہمیں کیا بننا ہے ؟ اللہ نے سب سے پہلے تمام انسانوں کی روحوں کو پیدا کیا اور پھر پوچھا کہ کیا تم میری گواہی دیتے ہو، تو سب نے اِس بات کا اقرار کیا۔ اِس اقرار کے بعد اُن کی یاداشت ختم کر دی گئی یا بعد علماء کے مطابق سب روحوں کو سُلا دیا گیا۔ ہمیں ہماری باڈی میں ڈالنے سے پہلے ہم اللہ تعالیٰ کی گواہی دے چکے ہیں۔ ہم نے جو تیاری کرنی تھی امتحان کی وہ کر چکے اب اِس دنیا میں امتحاں دینے بیٹھے ہیں۔ اِس میں جو پاس ہوا وہ آخری منزل میں فلاح پائے گا۔

ڈاروِنز تھیوری

ولیم ڈاروِن کی تھیوری آف ایولیوشن کہتی ہے کہ انسان پہلے پہل بندر کی شکل کا تھا جو آہستہ آہستہ اپنی شکل تبدیل کرتا رہا اور انسان کی شکل اختیا ر کر گیا۔اِس تھیوری کے اعتبار سے پہلے جاندار جو پانی میں رہتے تھے ، جب پانی میں رہنا مشکل ہوا تو زمین پر آگئے اور ادھر رہتے رہتے اُن کے پاؤں نکل آئے، پھر وہ چلتے چلتے بندر بنے اور پھر انسانی شکل میں اُبھرے۔اسلام میں اِس تھیوری کی کوئی جگہ نہیں اور علماء کی طرف سے کفریہ عقیدہ قرار دیا جاتا ہے۔

ہم حضرت آدمؑ کو اپنا باپ تسلیم کرتے ہیں اور اُن سے پہلے انسانوں کا تصور نہیں کرتے۔ جب سوالات کیے جاتے ہیں کہ سائنس نے لاکھوں سال پہلے کے ڈھانچے تلاشے ہیں جبکہ آدمؑ کی حیات تقریبا 10ہزار سال پہلے کی مانی جاتی ہے تو اُن سے پہلے کہ انسانوں کے ڈھانچے زمین پر کیا کر رہے ہیں۔ بعض علماء کے مطابق آدمؑ سےپہلے جاندار موجود تھے لیکن وہ اشرف المخلوقات کے درجے پر فائض نہیں تھے، یا پھر کہہ سکتے ہیں کہ وہ انسان کے درجے تک پہنچے نہیں تھے، کچھ علماء کے تحت آپؑ سے پہلے صرف جاندار یعنی حیوان موجود تھے، اور بہت سے علماء کے مطابق اللہ نے آدمؑ سے پہلے انسانوں کو پیدا کیا تا کہ وہ ادھر رہنا سیکھیں اور ماحول کو اپنائیں۔

سب عقائد اپنی جگہ لیکن اِن سے ایک بات کی درستی ہوتی ہے کہ آدمؑ سے پہلے جاندار یا انسان موجود تھے۔ سائنس نے کاربن ڈیٹنگ سے اُن ڈھانچوں کی عمر پتہ کی اور اُس کے بعد اُن ڈھانچوں کو انسانی بتدریج بندر کی شکل میں ڈھال کر یہ ثابت کرنا چاہا کہ انسانی ارتقاء کی تھیوری سچ ہے۔حضرت آدم ؑ کو بنانے کے بعد اللہ نے اُن میں روح پھونک کر انہیں اشرف المخلوقات کا درجہ دے دیا۔بعد علماء حیوانوں میں روح کے تصور کو نہیں مانتے اور اُن کا کہنا ہے کہ جانوروں یا پھر حیوانوں میں صرف جان ہوتی ہے روح نہیں ہوتی۔ روح انسانوں کی صفت ہے، اور اِسی صفت کی بناء پر وہ سب سے افضل ہے۔اور اِس سے پہلے جو بھی مخلوق اِس زمین پر تھی وہ جاندار یا حیوان تھی۔

ہمارا عقیدہ

تھیوری آف ایولیوشن کو ابھی تک تھیوری کہا جاتا ہے اور تھیوری کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ بات ابھی تک درست نہیں۔ اگر کوئی تھیوری درست ثابت ہو جائے تو وہ لاء بن جاتا ہے۔ اِسی طرح اگر یہ ارتقاءثابت ہو جاتی تو یہ لاء آف الیویشن بن چکا ہوتا۔ قرآن کی نشانیوں کو تقریبا 80فیصد سائنس نے درست ثابت کر دیا ہے۔ سائنس مانتی ہے کہ قرآن میں 80فیصد جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ درست ہیں ۔ کچھ باتوں کو سائنس نکارتی ہے یا پھر مانتی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہے اور ہونا چاہیے کہ جہاں پر 80فیصد درست ثابت ہوا وہاں کوئی مضائقہ یا شک نہیں کہ قرآن پاک باقی 20فیصد آئندہ 50،100،300سالوں میں سائنس سے اپنے آپ کو منوا دے گا۔انسان کی پہلے کی ارتقاء انہی سوالوں میں آتی ہے جس میں نہ سائنس کچھ تلاش سکی اور نہ مذاہب میں بریفنگ بتائی گئی ہے۔

امید ہے کہ آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو گا۔ اپنی پسند نا پسند کا اظہار نیچے ووٹ باکس میں کریں۔ انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیسبک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں