47

واٹس اپ بنانے والے بندے کی دکھ بھری داستان

فروری 1976 کو یوکرین کے ایک گاؤں کیو میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس بچے کا نام جان کوم تھا۔ اس بچے کی فیملی بہت غریب تھی۔ ان کے گھر میں بجلی تک نہیں تھی۔ یوکرین کے علاقے میں ٹمپریچر اکثر مائنس میں رہتا تھا۔ اور ان کے گھر میں گرم پانی بھی موجود نہیں تھا۔ ان کا گزارہ بہت مشکل سے ہوتا تھا۔ یہی بچہ آگے چل کر ایک ایسی ایپلی کیشن بنانے والا تھا، جو اس وقت آپ کے فون میں بھی موجود ہے۔ یعنی واٹس اپ۔ لیکن یہ سب کیسے ہوا۔

:ابتدائی حالات

دوستوں اپنی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے 1992میں یہ فیملی اپنا سب کچھ بیچ کر بڑی مشکل سے امریکا پہنچ گئی۔ جان کوم 16 سال کا تھا۔ اور اس کو کمپیوٹرز میں بہت دلچسپی تھی۔ ان کے حالات امریکہ پہنچ کر بھی ٹھیک نہیں ہوئے ہیں۔ جان کو ایک گراسری سٹور میں کلینر کی نوکری مل گئی۔ اس کی فیملی میں سب لوگ کام کرتے تھے۔ تاکہ ان کا گزارا ہو سکے۔ بہت جلد ان پر ایک اور مصیبت آ گئی۔ جان کوم کے والد کی موت ہوگئی، اور اس کی والدہ کو کینسر ہو گیا۔ لیکن جان کوم کے پاس حالات سے لڑنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں تھی۔ یہ محنت کرتا رہا اور پھر اس کا داخلہ ایک یونیورسٹی میں ہو گیا۔

:یاہو میں نوکری

یہ کمپیوٹر میں بہت ماہر تھا۔ اور بہت جلد اس کو یاہو میں جاب آفر ہو گئی۔ حالانکہ یہ ابھی بھی یونیورسٹی میں ہی پڑھتا تھا. جان کوم نے یونیورسٹی چھوڑ کر یاہو میں نوکری کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یاہو میں اس کی ملاقات برائن ایکٹن نام کے آدمی سے ہوئی۔ اور بہت جلد ان کی دوستی ہوگئی۔ 2000 میں جان کی والدہ کی ڈیتھ ہوگئی۔ اور جان کوم بالکل اکیلا پڑ گیا۔ یہ اپنا زیادہ تر وقت اپنے دوست برائن ایکٹن کے ساتھ ہی گزارنا شروع ہوگیا۔ یہ دونوں دوست فارغ وقت میں گیمز کھیلتے رہتے تھے۔ ان دونوں نے اگلے 9 سال تک یاہو کے لیے ہی کام کیا۔ اور 2007 میں دونوں نے یاہو کی نوکری چھوڑ دی۔

:فیس بک سے انکار

انھوں نے فیصلہ کیا کہ اگلے ایک سال تک یہ کوئی کام نہیں کریں گے۔ اور صرف دنیا گھومیں گے۔ ایک سال کے بعد ان دونوں نے فیس بک میں نوکری کے لیے اپلائی کیا۔ لیکن فیس بک نے ان دونوں کو نوکری نہیں دی۔ لیکن آپ قسمت دیکھیں کہ ان دونوں کے بنائے ہوئے وٹس آپ کو بعد میں فیس بک نے ہی 19 ارب ڈالرز میں خریدا تھا۔ خیر یہ دونوں دوست اس وقت کوئی نوکری نہیں کر رہے تھے۔ لیکن پھر ایک آئیڈیا نے ان دونوں کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی۔

:واٹس اپ کی ایجاد

ناظرین کرام ہوا کچھ یوں کہ جنوری 2009 میں جان کوم نے آئی فون خریدا اس وقت آئی فون کا ایپ سٹور بہت ساری نئی ایپلی کیشن لانچ کرنے والا تھا۔ اور یہیں سے جان کوم کے ذہن میں آئیڈیا آیا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نا ایسی ایپلیکیشن بنائی جائے جس کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے بات کر سکیں۔ اس پراشتہارات بھی نہ چلیں نا ہی لاگ ان کرنے کی ضرورت پڑے۔ اور یہ استعمال کرنے میں بھی آسان ہو۔ یعنی واٹس اپ. یہ آئیڈیا جان کوم تھا، جو اس نے اپنے دوست برائن ایکٹن سے شیئر کیا۔ 24 فروری 2009 کو جان نے اس کا نام واٹس ایپ کردیا۔ اسی دن اس کی برتھ ڈے بھی تھی۔

:مارک زکر برگ کا واٹس خریدنا

شروع شروع میں واٹس اپ کریش ہو جایا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ جان کو واٹس اپ نے مایوس کر دیا تھا۔ لیکن اس کے دوست برائن نے اس کا حوصلہ بڑھا کر رکھا۔ جس ایپ کے شروع میں صرف چار سو یوزرز تھے۔ اس ایپلی کیشن کو 2014 میں دنیا بھر میں 50 کروڑ لوگ یوز کرنے لگے. حیرت انگیز بات یہ بھی تھی کہ واٹس ایپ میں کوئی مارکیٹنگ کا کوئی بندہ ہی نہیں تھا۔ صرف اس ایپلی کیشن کی ریپوٹیشن نے اس کو دنیا کے بڑے برانڈز میں سے ایک بنا دیا۔کیا دوستوں جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ آپ قسمت دیکھیں جس فیس بک نے ان دونوں دوستوں کو نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی فیس بک کے مارک زکر برگ نے ان سے کانٹیکٹ کیا۔ اور واٹس اپ خریدنے کی پیشکش کی، اور ان دونوں نے 2014 میں وٹس ایپ کو 19 ارب ڈالرز میں فیس بک کو بیچ دیا۔ آج واٹس اپ کو دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب لوگ یوز کرتے ہیں۔

یوکرین کے گاؤں میں ایک غریب گھر میں پیدا ہونے والا لڑکا جس کے گھر بجلی اور گرم پانی تک نہیں تھے۔ یعنی جان کوم جس نے وٹس ایپ کا آئیڈیا دیا تھا، آج امریکہ کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہے محنت اور ایک اچھا آئیڈیا انسان کی قسمت بدل سکتا ہے۔

ایسے دلچسپ آرٹیکلز پڑھنے کے لیے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب کرلیں اور فیس بک پیج کو لائک بھی کرلیں۔ تاکہ ہر آرٹیکل آپ پہلے پڑھ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں