tiktok 94

ٹِک ٹَاک بنانے والا چائنہ کا امیر ترین شخص کیسے بنا

دوستوں ہم میں شائد ہی کوئی ایسا ہوجس نے ٹک ٹاک کے بارے میں نہ سنا ھو۔ ٹک ٹاک اس وقت دنیا کی مشہور ترین اپلیکشنز میں سے ایک ہے۔ ٹِک َٹاک ایک ویڈیو شیئرنگ اپلیکیشن ہے، جس کو پانچ سو ملین سے بھی زیادہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ ٹک ٹاک کی اور اس کو بنانے والے انسان کی کہانی جانتے ہیں۔ آج یہ آدمی چائنہ کا نوواں امیر ترین انسان ہے۔

microsoft

:مائیکروسافٹ

ٹِک ٹَاک کو بائٹ ڈانس نامی چائنیز کمپنی نے بنایا ہے۔ اسی کمپنی کا مالک اور فاؤنڈر یعنی ٹک ٹاک کو بنانے والے آدمی کا نام زِینگ یِمنگ ہے۔ 36 سالہ زینگ ایک سافٹ ویئر انجینئر ہے۔ چائنا کی یونیورسٹی سے گریجویٹ ہونے کے بعد 2008 میں اس نے مائیکرو سافٹ جوائن کرلی۔ لیکن اس کا دل وہاں زیادہ نہیں لگا۔ جلد ہی اس نے مائیکروسافٹ چھوڑ کر فین فو نام کی ایک نئی کمپنی جوائن کی۔ لیکن یہ کمپنی چل نہیں سکی اور زینگ نوکری سے فارغ ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے ایک نئی کمپنی شروع کی۔ لیکن2011 میں ایک آئیڈیا نے اس کی زندگی تبدیل کر دی۔

زینگ نے نوٹس کیا کہ چائنا اور باقی دنیا میں لوگ کمپیوٹر سے زیادہ موبائل فون میں انٹرسٹ لے رہے ہیں، اور اسی آئیڈیا کو لے کر زینگ نے 2012 میں بائٹ ڈانس نام کی کمپنی بنائی۔ یہی وہ کمپنی ہے جس نے آگے چل کر ٹک ٹوک کو بنایا۔ اور زینگ کی زندگی ہمیشہ کے لئے تبدیل ہوگئی۔

:بائٹ ڈانس

بائٹ ڈانس نامی یہ کمپنی موبائل ایپلیکیشنز بناتی تھی۔ لیکن زینگ کے سامنے ابھی کافی مشکلات تھیں۔ اس کمپنی نے جو اپنی پہلی موبائل ایپلیکیشن بنائی، اس ایپلی کیشن کو کسی مسئلہ کی وجہ سے چائنہ کی حکومت نے بین کر دیا تھا۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ ایسی ایپلی کیشن بنانا چاہتا تھا جو چائنیز لوگوں کو ان کے موبائل فون میں دن بھر کی خبریں دیتی رہے۔ زینگ نے کئی انوسٹرز سے بات کی کہ وہ اس ایپلی کیشن کو بنانے میں زینگ کو پیسے دیں۔ لیکن اس کو ہر جگہ سے انکار ہی سننے کو ملتا تھا۔ ذینگ نے ابھی بھی ہمت نہیں ہاری۔ مائیکروسافٹ جیسی کمپنی میں ایک اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر یہ دھکے کھا رہا تھا۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ کوئی بھی بڑا گول کرنے کے لئے رسک لینا پڑتا ہے۔ آخر کار اگست 2012 میں ایک انوسٹر کمپنی میں پیسے لگانے کے لئے تیار ہو گیا، اور اس طرح زینگ نے ٹاٹیون نام کی ایک نیوز ایپلیکیشن بنا لی۔ اگلے دو سالوں میں اس ایپلی کیشن کوایک کروڑ تیس لاکھ لوگ استعمال کر رہے تھے۔ اور زینگ کو بہت بڑی کامیابی مل گئی۔

:ٹک ٹاک

دوستو اب آتے ہیں ٹِک ٹَاک کی طرف ستمبر 2016میں زینگ کی کمپنی نے ڈیون نام کی ایک ایپ بنائی۔ یہ اپلیکیشن اصل میں ٹک ٹاک ہی تھی۔ جس کو چائنا میں ڈیون کہتے ہیں۔ اور آج بھی یہاں اسی نام سے استعمال کی جاتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایپ چائنا میں بے حد مشہور ہوگئی، اور کروڑوں لوگوں نے ڈاؤنلوڈ کرلی۔ زینگ نے سوچا کہ کیوں نہ اس ایپلی کیشن کو پوری دنیا میں پھیلایا جائے اور پھر یہی سوچ کر اس نے ستمبر 2017 میں اسی ایپلی کیشن کو ٹک ٹاک کے نام سے دنیا بھر میں لانچ کر دیا۔ اور پھر کچھ ہی مہینوں میں ٹک ٹوک باقی دنیا میں بھی مشہور ہونا شروع ہو گئی۔ چائنا میں لوگ اس کو ڈیون کے نام سے ہی استعمال کر رہے تھے۔ نومبر 2017 میں زینگ نے میوزکلی نام کی مشہور اپلیکیشن نیو ٹیک ٹوک جیسی ہی تھی وہ ایک ارب ڈالر میں خرید لیا یعنی ڈیڑھ سو ارب روپے۔ زینگ نے میوزکلی کو ٹک ٹاک کے ساتھ مرج کر دیا۔ یعنی اب دنیا میں ایک ٹک ٹاک جیسی ایپ کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ حیران کن طور پر اس دوران زینگ کا اپنا کوئی اکاؤنٹ ٹک ٹاک پر موجود ہی نہیں تھا۔ کیونکہ اس کو لگتا تھا کہ ٹک ٹاک صرف ینگ لوگوں کے لیے ہی ہے، اور یہ کافی بڑا ہو گیا ہے لیکن اس نے اپنے آفس میں اپنے سارے ایمپلائی کے لیے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ بنانا لازمی کیا ہوا تھا۔ یہاں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ آپ لوگ اپنی ویڈیوز پر اچھے خاصے لائکس لانے ہوتے تھے ورنہ انہیں آفس میں پُش اَپس کرنے پڑتے تھے۔ آج ٹک ٹاک 75 لینگویجز میں اویلیبل ہے، اور دنیا کی مشہور ترین اپلیکشنز میں سے ایک ہے۔ زینگ آج چائنہ کا نُواں اَمیرترین آدمی بن چکا ہے۔ اس کی دولت کی مالیت 13 ارب ڈالرز ہے، یعنی تقریبا 2ہزار ارب روپے۔

ایسی ہی انفارمیٹو آرٹیکلز پڑھنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب کریں اور فیسبک پیج کو لائک کریں تا کہ ہر تازہ خبر کا نوٹیفیکیشن آپ کو موبائیل پر مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں