corona virus vaccine 111

ویکسین کیا ہے اور اس کو بنانے میں کتنا عرصہ درکار ہوتا ہے

کرونا وائرس کے اس خطرناک دور میں جب ہر کوئی ویکسین کے لفظ سے آشنا ہوچکا ہےلیکن اس آشنائی میں بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ اصل میں ویکسین ہوتی کیا ہے اور اس کو بنانے میں اوسط کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔

ویکسین کیا ہے؟

جب کوئی بھی وائرس ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے توہمارا امیون سسٹم 3طرح کے کام کرتا ہے۔ سب سے پہلے وہ چیک کرتے ہیں کہ ہمارے جسم میں وائرس داخل ہو چکا ہے، دوسرا وہ اس وائرس سے لڑنے کے لئے آرمی بھیجتے ہیں جو اُس وائرس کے ساتھ لڑائی کرتے ہیں اور انہیں باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، تیسرا ہمارا امیون سسٹم جو اُس وائرس کو یاد کر لیتا ہے کہ فلاں وائرس آیا تھا اور اُسے اس طرح مار بھگانا ہے۔اب ویکسین صرف اتنا کرتی ہے کہ وہ ہمارے امیون سسٹم کے اندر میموری ڈال دیتی ہے کہ فلاں وائرس ہے جب وہ آئے گا تو اُسے اِس طرح مار لگا کر باہر پھینکنا ہے۔حالانکہ ابھی تک اصل میں وہ وائرس آیا نہیں لیکن ویکسین کی مدد سے ایڈوانس میں پہلے ہی ہمارے امیون سسٹم کو اس وائرس کی ساری انفارمیشن ہوتی ہے کہ کیسے اس کو مارنا ہے۔

ویکسین میں کیا ڈالا جاتا ہے؟

سوال کھڑا ہوتا ہے کہ ویکسین میں ایسا کیا ہوتا ہے جس سے وائرس کو ہرایا جاتا ہے تو اس کا جواب ہے کہ ویکسین میں خود وہ وائرس ہی ہوتاہے۔ کسی ویکسین میں وائرس کو مار کر ڈالا جاتا ہے، کسی میں کمزور کر کے ڈالا جاتا ہے اور کسی میں اُسے کاٹ کر ڈال دیا جاتا ہے۔ ہر ویکسین کے الگ الگ فائدے اور نقصانات ہیں۔

ویکسین کی اقسام؟

اگر ویکسین میں وائرس کو مار کر ڈالا جائے تو ایسی ویکسین کو بنانے میں کم وقت لگتا ہے۔ لیکن ایسی ویکسین میں مسلہ یہ ہے کہ یہ لمبے وقت تک کام نہیں کرسکتیں۔ مطلب ہر سال یا مہینے بعد لینی پڑتی ہے۔

اگر وائرس کو کمزور کر کے ڈالا جائے تو ایسی ویکسین لمبے عرصے تک کام کرتیں ہیں لیکن ان کو بنانے میں بہت لمبا عرصہ بھی درکار ہوتا ہے۔

مزید پڑہیں: ایکٹیمرا انجکشن کرونا وائرس کے لئے کتنا فائدہ مند اور اس کے نقصانات

ویکسین بنانے میں کتنا وقت درکار؟

بات کو اگر ہم آگے بڑھاہیں تو سوال آتا ہے کہ ایک ویکسین کو بنانے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ اوسط ایک ویکسین کو بنانے میں 10سال لگ سکتے ہیں۔لیکن کرونا کی ویکسین میں ماہرات کا کہنا ہے کہ اس کو بنانے میں ا یک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے جس سپیڈ سے کام جاری ہے۔دنیا میں سب سے کم وقت میں ممز کی ویکسین بنائی گئی تھی جس میں 4سال کا عرصہ لگا تھا۔ تو اگر کرونا کی ویکسین ایک سے ڈیڑھ سال میں بن جاتی ہے تو یہ سب سے کم عرصے میں بنائی گئی ویکسین کا درجہ پا لے گی۔

ویکسین بنانے کے مراحل؟

ویکسین کو بناتے وقت کچھ سٹیجز پر کام کیا جاتا ہے جیسا کہ سب سے پہلے اس پر ریسرچ کی جاتی ہے کہ کونسی ویکسین بنائی جائے۔ اس وائر س پر کونسی ویکسین ٹھیک رہے گی۔دوسرے نمبر پر اس ویکسین کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ جو ویکسین ہم نے منتخب کی ہے وہ کیا ٹھیک بھی ہے مطلب کہ اس کو پہلے جانوروں پر ٹیسٹ کیا جائے گا۔ اُن کے رزلٹ دیکھنے کے بعد انسانوں پر ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ انسانوں پر ٹیسٹ میں سب سے پہلے کچھ گنے چنے لوگوں پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور رزلٹ دیکھے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اور زیادہ لوگوں پر آزمایا جاتا ہے اور وقت کو دو سے 5مہینے تک لے جایا جاتا ہے اور نتائج دیکھے جاتے ہیں۔ اور آخر میں ہزاروں لوگوں پر ڑائل کیے جاتے ہیں اور یہ ٹرائل میں دو سے چار سال تک دیکھا جاتا ہے کہ لمبے عرصے کے بعد کوئی سائڈ افیکٹ تو نہیں آرہے، تیسرے نمبر پر گورنمنٹ سے اپروول لیا جاتا ہے اور چوتھے نمبر پر اس ویکسین کو بنانے نے لئے بڑی بڑی فیکٹریاں لگائی جاتیں ہیں جو اُس کو بڑے سکیل پر بنا سکیں۔

اوپر بتائے گئے سب سٹیجز میں لمبا عرصہ اور پیسہ درکار ہوتا ہے اس لئے زیادہ تر ہر ملک کا ادارہ یا میڈیکل کمپنی اپنے طور پر ویکسین بنانا شروع کر دیتیں ہیں اور جس کے نتائج اچھے نکلیں اُس کو استعمال کرنا شروع کر دیا جاتا ہے۔

موجودہ حالات میں کرونا کی ویکسین

اس وقت دنیا میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن تقریبا 70 سے زائد اداروں پر نظر رکے بیٹھی ہے جو کرونا کی سیکسین تیا ر کررہے ہیں۔یہ سب ویکسین ٹرائل ٹیسٹ کی جا رہیں اور ایک ایسی ویکسین ہے جو چائنا کی ملٹری استعمال میں لے رہی ہے۔جرمنی میں کمپنی فزر اور بائیو انٹک ایک ویکسین پر کام کر رہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ 30ہزار لوگوں پر جولائی کے آخر میں ٹرائل ٹیسٹ کریں گے۔ اس میں 5 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے لیکن ماہرین کہنا ہے کہ اگر یہ جلدی میں کیا گیا تو ایک سال میں ختم کیا جا سکتا ہے۔آکسفورڈ کی ویکسین سب سے آگے چل رہی ہے۔ انہوں نے 2 سٹیجز کے ٹیسٹ کر لئے ہیں اور اگست تک اس کی رپورٹ بھی آجائے گی، اگر یہ کامیاب ہوئے تو یہ ویکسین 2021 کے شروع میں مارکیٹ میں آجائے گی۔

امید ہے کہ آپ کو اس آرٹیکل میں کافی کچھ ویکسین کے بارے میں جاننے کو ملا ہو گا۔اگر آپ کو یہ انفارمیشن پسند آئی ہو تو نیچے ووٹ باکس میں رائے لازمی محفوظ کروائیں اور اپنے دوستوں اور پیاروں کو شیئر کریں تا کہ وہ بھی اس انفارمیشن کو جان سکیں۔ مزید آرٹیکل کی نوٹیفیکیشن حاصل کرنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں