painful death lingchi 163

دنیا میں سب سے اذیت ناک موت کونسی ہے، ایک ہزار کٹ سے موت

عرصہ دراز سے ہر ملک نےجرائم کو روکنے یا کم کرنے کے لئے سزائیں مقرر کر رکھیں ہوتیں ہیں۔ پرانے وقتوں میں زیادہ تر مجرم کو سزا سرِعام دی جاتی تھی تا کہ دوسرے لوگ اُسے دیکھ کر عبرت پکڑیں۔اگر ہم 500 سے 1000 سال پیچھے جائیں تو ہمیں ایسی اذیت ناک سزاؤں کا سننے ملتا ہے، جس کو سُن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔بہت لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ آگ سے جل کر مرنا یا مارنا بہت تکلیف دہ عمل ہے،لیکن جس سزا یا مرنےکے عمل کے بارے میں ہم آپ کواِس آرٹیکل میں بتائیں گےاُس کو سُن کر آپ کے اندر سنسنی دور جائے گی۔

وہ موت جو آہستہ آہستہ ہو تکلیف دہ مانی جاتی ہے جو کہ سچ ہے۔ ایسی ہی ایک سزائے موت جس کو “لنگچی” کے نام سے جانا جاتا ہے، آج سے تقریبا 1100سال پہلے چائنا میں شروع کی گئی تھی۔ اِس کو لنگچی یا پھر 1ہزار کٹ موت بھی کہا جاتا ہے۔جیسا کہ اِس کے نام سے ہی ظاہر ہے مجرم کو کٹ لگا کر مارنا۔

اِس سزا میں مجرم کو ایک لکڑی کے ساتھ سیدھا اس طرح باندھ دیا جاتا تھا کہ وہ کسی طرح بھی ہل نہ پائے۔مجرم کے سارے کپڑے اتروا دئیے جاتے اور اُس کے اردگرد تماشائی کھڑے ہوتے تھے۔مجرم کے جسم میں سب سے پہلے اُس کے سینے کو چھڑیوں سے کاٹا جاتا، جب تک کہ نیچے اُس کی پسلیاں نہ نظر آجائیں۔اِس کے بعد بازؤں کے گوشت اور پھر ٹانگوں کے گوشت کو کاٹا جاتا۔اِس عمل کے بعد اگر مجرم زندہ ہو تو اُس کے جسم کے گوشت پر چھڑیوں سے کٹ لگانا شروع کر دیئے جاتے تھے۔پرانے لوگوں کے مطابق یہ کَٹس 1000 سے لے کر 3000تک لگائے جاتے تھے۔

چائینیز کتابوں میں اس سزا کا مکمل اور سہی طریقہ نہیں بیان کیا گیا، لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ ہر شہر کا الگ اپنا ہوتا تھا۔اِس سزا سے مجرموں کی موت 15منٹ سے لے کر 3دنوں تک کی ریکارڈ کی گئی۔3دنوں تک کٹس لگا کر مجرم کو سرِعام لٹکا دیا جاتا تھا تا کہ وہ آہستہ آہستہ درد سے مرے۔

لنگچی ہر مجرم کو نہیں دی جاتی تھی بلکہ یہ سزا بڑے جرم جیسا کہ اجتماعی زیادتی، اپنے ماں باپ میں سے کسی کو مارنا،اپنے سردار کو مارنا،کسی کو بھی قتل کرنا وغیرہ پر عائد کی جاتی۔1905میں ایک مجرم جس نے اپنے شہزادے کو موت کے گھاٹ اتارا تھا یہ سزا آخری بار دی گئی اور اسی کے 2ہفتے بعد اِس سزا کو چائنامیں ختم کر دیا گیا۔

اس سزا کو دنیا میں اب تک سب سے اذیت ناک تصور کیا جاتا ہے لیکن ابھی بھی اس سے بھی اذیت ناک سزائیں موجود ہیں جو مختلف قبائلی لوگ دیتے ہوں گے۔آج کے دور میں سزائے موت کو بہت آسان کر دیا گیا ہے۔ کئی جگہ ایک کرنٹ کے جھٹکے سے کسی جگہ تلوار کے ایک جھٹکے سے موت دے دی جاتی ہے۔اسلام میں پُرانے وقتوں میں سزا کو سب کے سامنے دیا جاتا تھا تا کہ دوسرے لوگ دیکھ کر عبرت پکڑیں لیکن وقت کے جھٹکے نے اِن روایات کو ختم کر دیا۔

امید ہے آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو گا۔ اگر آپ کو یہ پسند آئے تو نیچے ووٹ باکس میں اُس کا اظہار کریں۔نوٹیفیکیشن حاصل کرنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں