what is butterfly effect 149

بٹرفلائی افیکٹ کیا ہے اور کیسےاس افیکٹ نے ہٹلر کو جنم دیا

ہم فارغ اوقات میں بیٹھے جب اپنی زندگی کے مختلف ادوار کے بارے میں سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے فلاں وقت یہ کام نہ کیا ہوتا تو میرا فلاں نقصان نہ ہواہوتا۔ہر انسان کو اپنی زندگی کے کچھ فیصلوں پر بعد میں پچھتاوا رہتا ہے اور وہ اُس فیصلے کو رہتی زندگی تک کوستا رہتا ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہاگر آپ نے وہ فیصلہ اپنی زندگی میں کبھی نہ لیا ہوتاجس کی وجہ سے آپ کی زندگی بدل گئی تو آپ اِس وقت کیا کر رہے ہوتےیا ابھی کی زندگی آپ کی کیسی ہوتی؟

بٹر فلائی افیکٹ کیا ہے؟

ایڈورڈلورینز نے انیسویں صدی میں ایک تھیوری پیش کی، جس میں اُس نے کہا کہ دنیا کے ایک کونے میں اگر تتلی اپنے پَر ہلاتی ہے تو اُس کے نتیجے میں دنیا کے دوسرے کونے میں سونامی آسکتی ہے۔یہ تھیوری سننے میں تو کافی بچگانہ لگتی ہے لیکن یہ اپنے اندر کافی گہرے سوالات وجوابات سموئے ہوئے ہے۔آئیےاِس تھیوری کو ہم ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہنگری کا ایک شہزادہ 1914 میں اپنی بیگم کے ساتھ بوسنیا کی سڑکوں پر گھومنے نکلا۔ گھومتے گھومتے وہ غلط اطروف میں نکل گئے۔اُسی وقت ایک انقلابی شخص جو وہاں پر کھانا خریدنے آیا تھا، دونوں میاں بیوی کو دیکھ کر رکا اور انہیں گولی مار دی۔اِس واقعہ کے بعد ہنگری نے سَربیا پر حملہ کر دیا۔ روس نے ہنگری کا ساتھ دیا جس کے ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے 32ممالک اِس جنگ کا حصہ بن گئے۔اِس جنگ کو لوگ پہلی جنگِ عظیم یا ورلڈ وار 1 کے نام سے جانتے ہیں۔اِس جنگ میں تقریبا 2کروڑ لوگ مارے گئے۔

اب اگر غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ اگر پہلے جنگِ عظیم نہ ہوتی تو اِن سب ممالک کے درمیان اَمن معاہدہ سائن نہ ہو کر جنگ ختم نہ ہوتی۔اِس جنگ میں ایک سپاہی نے ایک شخص کو گولی ماری جس سے وہ زخمی ہو گیا۔اگر وہ سپاہی چاہتا تو ایک اور گولی مار کر اُس شخص کو موت کے گھاٹ اتار سکتا تھا، لیکن اُس نے ایسا نہ کرتے ہوئے اُسے بچا لیا۔ بعد میں وہی زخمی شخص دنیا کا بدترین ڈکٹیٹر بنا جسے دنیا “ہٹلر” کے نام سے جانتی ہے۔ اگر سپاہی نےہٹلر کو اُسی وقت مار دیا ہوتا تو آج ہٹلر کا کسی کتاب میں ذکر تک نہ ہوتااور نہ ہی جنگِ عظیم دوم ہوتی،جس میں تقریبا 6کروڑ لوگ مارےگئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ گاندھی ایک بار ٹرین کے اَپر کلاس ڈبے میں بیٹھا۔ ٹکٹ چیکر نے اُسے دھکے مار کر ادھر سے نکال باہر کیا۔اِس واقعے کے بعد گاندھی نے ٹھان لی کہ وہ ہندوستان سے انگریزوں کو نکال کر رہے گا۔اگر اُس دن گاندھی ٹرین میں نہ بیٹھا ہوتا تو آج کی دنیا کچھ اور ہی رنگ دکھا رہی ہوتی۔

اِ ن سب مثالوں پر اگر نظر دہرائی جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ ایک چھوٹی سی بات نے بڑے سے بڑے واقعات کو جنم دیا ہے۔اگر آپ بھی اپنی زندگی پر نظر دہرائیں گے تو ایسے کئی واقعات دیکھنے ملیں گے، جس پر آپ کہیں گے کاش اگر یہ سوال یاد کر لیا ہوتا تو 10نمبر کا پیپر حل ہو جاتا۔ آپ کے 5منٹ جس میں آپ نے اُس سوال کو چھوڑ دیا، آپ کی ساری زندگی کا زوال بن گیا۔

ایڈورڈ لورینز کی اِس تھیوری کو “بٹر فلائی افیکٹ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِس تھیوری کو اگر گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے تو کئی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی ذہنیت کو پرکھا جا سکتا ہے اور آنے والے وقت کے بارے میں جائزہ لگایا جا سکتا ہے۔

امید ہے آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو گا اور آپ کو کچھ نیا سیکھنے کو ملا ہو گا۔ اپنی پسند ناپسند کا اظہار نیچے ووٹ باکس میں لازمی کریں۔ اسی طرح کے آرٹیکل کی نوٹیفیکیشن سب سے پہلے حاصل کرنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بُک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں