depression and its signs 120

ڈپریشن کیا ہے اور اِس کی علامات , ڈپریشن کو کیسے کم کریں

آج کل ایسی خبریں بہت عام ہوچکیں ہیں جس میں سننے کو ملتا ہے کہ فلاں نے زہر کھا کر خودکشی کر لی،فلاں نے خود کو پھندہ ڈال کر ختم کر لیا۔ اگر ہمارے خاندان میں ایسا ہو جائے تو اس کے جنازے پر جایا جاتا ہےاس کے والد والدہ کو قران کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ خودکشی کتنا بڑا گناہ ہوتی ہے اور اُن کو زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کا کہہ کر اپنے گھر کو لوٹ آتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں کیا، بھگتنا تو اُس کے گھر والوں کو ہی ہے نہ۔

پاکستان میں زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنے بچوں اور بچے اپنے والدین کوکچھ زیادہ نہیں سمجھتے۔ اگرکوئی اِن میں سے انتہائی قدم اٹھا لے تو یہ جاننے کی بجائے کہ اس نے ایسا کیوں کیا، اس کی آخر وجہ کیا تھی ک بجائے اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے اگر متاثرہ شخص ہمیں اپنا مسلہ بیان کرنے کی کوشش کرے بھی تو اِسے ڈرامہ یا کمزور قرار دیا جاتا ہے۔ بلفرض اگر ہم سمجھ بھی لیں تو اسی وقت اسے کسی محلے کے مولوی صاحب کے پاس یا کسی بابے کے پاس لے جاتے ہیں جو اُسے اپنے جھاڑو سے مار کر ٹھیک کر دیں گے۔

ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جس کو پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک میں زیادہ سمجھا نہیں جاتا۔ لوگ آئے دن اس کی وجہ سے خودکشی کرتے ہیں ۔آج بھی بہت سے لوگوں کی تعداد ایسی ہےجو ڈپریشن کو سرے اسے بیماری ماننے سے انکاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بس خوش رہو، کھیلو کودو آپ کو کبھی ڈپریشن نہیں ہوگا۔یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آخر ڈپریشن ہے کیا؟

ڈپریشن ایک سائیکالوجیکل اور بیالوجیکل بیماری ہے۔ آپ کو یا آپ کے عزیز کو یہ بیماری ہے یا نہیں اس کو چیک کرنے کے لئے کچھ پوائنٹس آپ دیکھ سکتے ہیں۔ جیساکہ

علامات

کسی کام میں دل نہ لگنا، کسی کام میں خوشی محسوس نہ ہونا(چاہے وہ کتنی ہی اچھی خبر یا بات کیوں ہی نہ ہو)، نیند کا نہ آنا یا بہت زیادہ آنا، بولتے وقت بے چینی، ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرنا، اپنے آپ کو تکلیف پہنچانے یا ختم کرنے کے خیالات آنا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ علامات کسی شخص میں لگاتار 2ہفتے سے نظر آرہیں ہوں تو وہ ڈپریشن میں جا چکا ہے۔ یہاں یہ سمجھنے والی ہے کہ ڈپریشن اور سٹریس میں بہت فرق ہوتا ہے، سٹریس میں اگر آپ کو کوئی اچھی خبر ملے یا پھر آپ کے ساتھ کچھ اچھا ہو تو سٹریس ختم ہو جاتا ہے لیکن ڈپریشن میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کئی بار دیکھا گیا ہے کہ باہر سے بہت خوش اور مطمئن نظر آنے والے لوگ اندر سے بہت ڈپریس ہوتے ہیں ان کی مسکراہٹ اور باتوں میں ایک کھوکھلا پن نظر آتا ہے۔ یہاں یہ ضروری نہیں کہ ڈپریشن والا شخص ہمیشہ گم صم ہی رہتا ہو یا ہمیشہ کھویا کھویا رہتا ہو۔ آپ کے آس پاس کے کئی لوگ جن سے آپ روز بات کرتے ہیں وہ اس بیماری کی پکڑ میں ہو سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ مانا جاتا ہے کہ فلاں کے پاس تو بہت پیسہ ہے سب کچھ اُس کے پاس ہے۔ اسے تو کوئی ڈپریشن کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کوئی یہ علامات بتائے کسی کو تو وہ آگے سے مذاق بنانا یا پھراسے ڈرامہ قرار دیتا ہے۔ لیکن انتہائی قدم اٹھانے کے بعد وہی لوگ دہاریں مار مار کر رو رہے ہوتے ہیں۔

ہمیں اپنی عوام کو سمجھانا ہوگا کہ جیسے ہارٹ اٹیک آنے پر مریض کو کسی بابے کے پاس لے جانے کی بجائے ہسپتال میں لیے کر جاتے ہین اسی طرح ڈپریشن کی علامات دکھنے پر مریض کو کسی سائیکٹریسٹ کے پاس لے جانا چاہیے۔ ڈپریشن کی بہت سی دوائیاں موجود ہیں جن کو کھانے سے یہ بیماری دور ہو سکتی ہے۔لیکن یہ دوائیاں کافی وقت کے بعد اثر دکھاتیں۔ تو صبر کا دامن پکڑ کر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ دوسرا مریض کو کونسلنگ کی کلاسز دلوانا جس سے اس کے اندر تبدیلیاں پیدا ہوں اور وہ اس بماری سے نکل سکے۔

ڈپریشن کسی خاص واقعہ جیساکہ امتحان مین ناکامی، محبت میں ناکامی، پیسہ کی قلت وغیرہ کی وجہ سے یا پھر بغیرکسی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ وہ ڈپریس ہو۔ اور یہ بات بلکل غلط ہے کہ ڈپریشن صرف کمزور لوگوں کو ہی ہوتا ہے۔ یہ کسی کو بھی اپنے پنجے میں جکڑ سکتا ہے۔

ضروری امر یہ ہے کہ ہمیں خود کو اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں آگاہ کرنا ہو گا۔تب ہی ہم اس سے لڑ سکتے ہیں۔ یہ نہ دِکھنے والا زخم ہے جو آہستہ آہستہ ناسور بن جاتا ہے۔ آخر میں ناکامی اور ہاتھ ملنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔اپنے آس پاس کے لوگوں میں ڈپریشن کی علامات کو دیکھیں اور مذاق بنانے کی بجائے ان کا علاج کروائیں۔

امید ہے آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو گا۔ مزید آرٹیکل کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں