زبان عورت کی لمبی ہوتی ہے یا مرد کی

زبان عورت کی لمبی ہوتی ہے یا مرد کی جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عورت زیادہ باتیں کرتی ہیں ان کی زبان لمبی ہوتی ہے. محاورہ تن تو یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں۔
مرد کی زبان عورت کی زبان سے دراصل لمبی ہوتی ہے جی ہاں یہ بات بالکل درست ہے اور تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بالغ مردوں کی زبان کی اوسط لمبائی3.3 اور بالغ عورت کی زبان کی لمبائی3.1 انچ ہوتی ہے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق سب سے لمبی زبان ایک امریکی شہری کی ہے جس کی زبان کی لمبائی 3.97 انچ ہے اور عورتوں میں سب سے لمبی زبان بھی ایک امریکی خا تون کی ہے جس کی لمبائی 3.86 ہے

تو جناب یہاں ایک بات تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں سب سے لمبی زبان والی قوم امریکہ ہی ہے ہم آپ کو زبانن سے متعلق چند مزید دلچسپ باتیں بتا دیتے ہیں پہلی بات تو یہ کہ انسانی زبان ساری کی ساری مسل ہے بلکہ اس کا مجموعہ ہے یہ آٹھ مسائل سے مل کر بنی ہے اور اس میں کوئی ہڈیاں وغیرہ نہیں ہوتا اور انسانی جسم کا یہ واحد مسل ہے جو انسان کے ڈھانچے سے جڑا ہوا نہیں ہوتا اور ایک طرف سے بالکل آزاد ہوتا ہے زبان ایک انتہائی پاورفل مثل ہے یعنی آپ کی زبان کبھی بھی باتیں کرنے سے کھانے پینے سے یا کچھ کچلنے سے تھکتی نہیں ہے سکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی لمبائی اور موٹائی میں زبان عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے اور جب انسان بھاری ہوتا ہے تو یہ پیدائش کی نسبت دوگنی ہو چکی ہوتی ہے تیسری دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ زبان پر پائے جانے والے ٹیسٹ بٹس جن سے کسی بھی چیز کا ذائقہ چکھا جاتا ہے ایک بالغ انسان میں 2000 سے 4000 تک ہوتے ہیں اور ان کے سینسرز ہر ہفتے خودبخود قدرتی طور پر نیے بدلتے رہتے ہیں پرانے والے ختم ہو کر نئے بن جاتے ہیں۔
ٹیسٹ بٹس اصل میں زبان کے اندر نچلی تہہ میں ہوتے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے زبان پر جو گلابی اور سفید چھوٹے چھوٹے دانے ہوتے ہیں وہ ٹیسٹ بٹس نہیں ہے۔
پانچویں حقیقت یہ کہ ٹیسٹ بٹس صرف زبان پر ہی نہیں ہوتے بلکہ حلق کے اندر بھی ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  دنیا میں موجود مختلف اقسام کے خطرناک وائرس اور ان کی تاریخ۔


چھٹی دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ زبان سائیڈ سے زیادہ حساس ہوتی ہے اس کے علاوہ کچھ چکھنے میں نسبتا درمیانی حصہ زیادہ حساس ہوتا ہے لیکن کڑوے اور بد ذائقہ کھانوں کے لیے زبان کا پچھلا حصہ سینسٹیو ہوتا ہے۔
ساتویں حقیقت یہ کہ تقریبا 33 فیصد انسان زبان کے لحاظ سے سپر ٹیسٹر کہلاتے ہیں یعنی ان کی زبان باقی دو دہائی انسانوں سے زیادہ سخت ہوتی ہے اور تقریبا پچیس فیصد انسان ایسے بھی ہیں جو نون ٹیسٹر کہلائے جا سکتے ہیں یعنی ان کی زبان میں جھکنے کی صلاحیت ہوتی تو ہے لیکن بہت کم شاید یہی وہ لوگ ہیں جن کو کھانے زیادہ پسند نہیں آتے۔
آٹھویں دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ موٹے ہو گے تو آپ کی زبان بھی موٹی ہوتی جائے گی جی ہاں یہ بات ریسرچ سے ثابت ہوچکی ہے کہ ان کے موٹاپے اور اس کی زبان کی موٹائی میں براہ راست تعلق پایا جاتا ہے نوی دلچسپ حقیقت یہ ڈاکٹر جو کہ لمبی لمبی زبان نکلوا کر چیک کرتے ہیں اس لئے کہ انسانی زبان میں بہت سی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن سے مرض کو پہچانا جا سکتا ہے۔ سرخ زبان وٹامن کی کمی یا بخار کو ظاہر کرتی ہے اور اسی طرح اگر زبان میں کالا پن نظر آئے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ بیکٹیریا بہت زیادہ ہیں یا پھر یہ زیابطین کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کا زیادہ استعمال بھی زبان میں تبدیلی لے آتا ہے حقیقت یہ ہے کہ زبان پر موجود لائنوں سے جو پیٹرن بنتا ہے یہ بھی انسانی فنگرپرنٹس کی طرح یونیک ہوتا ہے کسی دوسرے سے نہیں ملتا اور ماہرین اس پر کام کر رہے ہیں کہ کس طرح اس کو بائیومیٹرک کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پب جی کو پاکستان میں بین کرنے کا نوٹس. یہ گیم موت کا سبب کیسے بنی؟