Temple in Islamabad 146

مسلمانوں کے ٹیکس سے کافروں کی عبادگاہیں بنانا اسلام میں جائز یا ناجائز

اسلام ہمیشہ سے پُرامن اور انسانیت کے حقوق پر بات کرتا رہا ہے اور اس کی وجہ سے ہی لوگوں کے اندر مقبول رہا۔ پاکستان کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اسے اسلام کا قلعہ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن امریکہ جیسے ملک کی لڑائیاں لڑتے لڑتے خود کو ہم بدنام کروا بیٹھے۔ بہت سے ممالک میں جب کسی سے پوچھا جائے کے پاکسان کا نام سُن کر ذہن میں سب سے پہلا کیا خیال آتا ہے تو جواب زیادہ تر ‘جنگ’ کا ہی ملتا ہے۔پاکستان نے خود کے لئے کم اور دوسروں کے لئے لڑائیاں زیادہ لڑی ہیں۔

اسامہ بن لادن اور بہت سی دوسری جہادی تنظیمیں، جن کا کام اسلام کی اشاعت کم اورخود پرستی زیادہ رہی ہے، کی وجہ سے لوگ اسلام سےڈرنے لگے اور سمجھنے لگے کہ اسلام کا مطلب مار دھاڑ ہے۔پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جس کو لوگ آج بھی خطرناک جگہوں میں شامل کرتے ہیں۔پاکستان کی بنیاد اسلام کے نام پر وجود میں لائی گئی تھی، جہاں پر آزادانہ اسلام کی پیروی کی جا سکے، لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

ہمیں اسلام بچپن میں ہی تھالی میں پروسہ ہوا ملا جس کی وجہ سے ہمیں اس کی قدر نہیں۔آج جو لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ان کا اگر ایمان دیکھا جائے، اُن کی اگر اسلام میں رغبت دیکھی جائے، اللہ پر توکل دیکھا جائے تو ہم شرم سے ڈوب مریں۔وہ لوگ اسلام کو پڑھ کر اس کو سمجھ کر اس میں داخل ہوئے جس کی وجہ سے انہیں اس کو پرکھنے کا موقع ملا۔ہم لوگ ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے بھی اسلام کے قریب نہیں جا پائے۔ ہم اسلام کی پیروی کریں یا نہ کریں لیکن ہمیں اسلام کے نام پر اُکسانا اور دھنگے کروانا بہت آسان ہے۔ پاکستان میں جس سیاسی پارٹی کو جیتنا ہو یا پھر کوئی کیس دبانا ہو، اسلام اس میں ڈال دیا جاتا ہے۔

کچھ لوگوں کے بُرے کارناموں کی وجہ سے اکثریت نے اسلام کو مار کاٹ کا دین بنا دیا۔حالانکہ اسلام وہ دین ہے جس نے سب سے زیادہ اقلیتوں کے حقوق کی بات کی ہے۔آج کل اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی بات چل نکلی ہے کہ وہاں پر ہندو اقلیت میں ہیں اور وہ اپنی عبادت گاہ بنانا چاہتے ہیں جہاں پر وہ آزادانہ عبادت کر سکیں۔ حکومت نے مندر کے تعمیر کی اجازت دے دی لیکن بہت سے لوگوں نے اس کو اسلام کے خلاف قرار دیا کہ اسلامی مملکت میں کافروں کی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کی جا سکتیں۔ کچھ لوگ اس مند کے حق میں بول رہے ہیں اور کچھ اس کے خلاف اور دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔

مندر کے حق والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کرنے کا درس دیتا ہےاور ہمیں مند ر بنانا چاہیے۔ علماء کا کہنا ہے کہ مندر بنانے میں کوئی ہرج نہیں ہے، ہرج آتا ہے کہ اسلامی ملک مسلمانوں کے ٹیکس سے کافروں کی عبادت گاہیں تعمیر کرے، یہ بات غلط ہے اور اسلام کے خلاف ہے۔اسلام کہتا ہے کہ اگر کسی کافر ملک پر غلبہ پاؤ تو ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی نہ کرو،انہیں مت توڑو۔ کلیسا، مندر اور گردواروں کا اتنا ہی احتروم کرو جتنا مسجد کاکیا جاتا ہے۔اگر کافر اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے پیسوں سے کریں نہ کہ ایک اسلامی مملکت مسلمانوں کا پیسہ اُس کی تعمیر میں لگائے۔

اسلام آباد میں رہنے والے ہندوؤن کی تعداد 3ہزار کے قریب ہے۔ یہ لوگ اتنا پیسہ نہیں ڈال سکتے جس سے ایک مند تعمیر کیا جاسکے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اُس کو بنانے کے لئے مسلمانوں کا پیسہ استعمال میں لائے۔ ایک ان پڑھ بسے بھی اگر یہ سوال کیا جائے تو وہ اس کو غلط کہے گا، لیکن افسوس اُن لوگوں پر کیا جا سکتا ہے جو اس غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں کہیں اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال رہے ہوں۔ ہم میں سے کوئی بھی کسی کے ایمان کے بارے میں نہیں کہہ سکتا کیونکہ روزِ محشر ہم سب کو اپنے اپنے ایمان کا حساب چکانا ہے۔ کسی ملک یا کسی بندے کو خوش کرنے کے لئے اپنی آخرت کا سودا نہ کریں۔ اپنے ٹیکس کا پیسہ کسی کافر کے پوجنے والی جگہ پر لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ کل کو اس میں ہونے والے شرک کے حقدار آپ بھی ٹھہرائے جائیں۔

امید ہے آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو گا۔ اپنی پسند ناپسند کا اظہار نیچے ووٹ باکس پر کلک کر کے کریں۔ ایسے ہی آرٹیکل کو سب سے پہلے پڑہنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب کو فیس بک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں