70

سعودیہ عرب ارتغل غازی کو پاکستان میں کیوں بند کروانا چاہتا ہے۔

عرب ممالک ارطغرل غازی جیسے ڈرامے پاکستان میں دکھایے جانے کے مخالف ہے اور ارطغرل غازی پاکستان میں آتے ہی چھا گیا ہر کسی کی زبان پر اسی ڈرامے کا ذکر ہے ایسے میں عرب ممالک چاہتے ہیں کہ
ارتغل غازی جیسے ڈرامے پاکستان میں نہ دکھائے جائیں۔


اس کے پیچھے کیا وجہ ہے ان کر عمران خان نے وضاحت دی ہے عمران خان نے اپنے یوٹیوب چینل میں بین الاقوامی فلموں اور ڈراموں کا بیک گراؤنڈ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عرب ڈرامے، انگلش میوزک، بھارتی فلمیں، صلیبی جنگوں پر بننے والی فلمیں بھی چلتی رہی ہیں اس طرح سے ان فلموں پر پابندی نہیں لگی جبکہ ایرانی فلمیں اور ڈرامے نہ چلانے کے لیے پاکستان پر ان ممالک نے دباؤ ڈالا جو ایران کو پسند نہیں کرتے تھے اس طرح ایران کا کوئی بھی ڈرامہ نہیں چل سکا عمران خان نے کہا کبھی بھارتی یا انگلش فلموں پر پابندی نہیں لگی کیونکہ ان کو لگتا ہے یہ پاکستان میں چلنا چاہیے لیکن جب ترک ڈرامے آئے تو لوگوں کو مسلے ہوئے۔لیکن آج ترکی ڈرامے لوگوں کو پسند آرہے ہیں اور وہ ہماری ٹی وی پر چل رہے ہیں۔

اسے کہتے ہیں ففتھ جنریشن وار جس کا ذکر سب سے پہلے پاکستان میں آئی ایس پی آر نے کیا انھوں نے بتایا کہ ایک صورت حال ہے جس کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے بتایا کہ ستر کی دہائی میں گوروں نے ہالی وڈ فلموں کے ذریعے ففتھ جنریشن وار شروع کی انہوں نے صلیبی جنگوں پر فلمیں بنائی یہودیوں نے بھی ایسا کیا اور اپنی فلموں کو مسلمانوں تک پہنچایا اور یہ بتایا کہ ان کے فائٹر سب سے زیادہ اچھے ہیں انہوں نے کہا مسلمان چاہتے ہیں ترک ڈرامے دیکھے جائیں لیکن عرب ممالک اور مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ نہ دیکھے جائے عرب نہیں چاہتا کہ ترکوں سے پاکستان کی نسبت ہو ترکوں نے چھ سو سال تک مسلمانوں کی قیادت کی اب عرب ممالک کو لگتا ہے کہ اگر پاکستانی ترکی تاریخ کے بارے میں جان جائیں گے تو اس طرح ان کی عزت میں کمی آجائے گی اسی لیے عرب حکمران نہیں چاہتے کہ یہ ڈرامے دیکھے جائیں جبکہ عرب عوام میں یہ ڈرامے بے حد مقبول ہیں۔بہت سے عرب چینلز پر ترکی ڈرامے عربی زبان میں دکھائے جا رہے ہیں اور لوگ اسے بہت پسند کرتے ہیں۔سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کے بنا ایک ڈرامہ میراسلطان ابھی بھی عرب ممالک میں بہت شوق سے دیکھا جارہا ہے۔

عرب کس لیے اس بات کے اتنے خلاف ہیں کہ ترک ڈرامے پاکستان میں مقبول ہو رہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ لوگ یہ سب جانے وہ تو چاہتے ہیں کہ ان کے بارے میں جانا جائے۔عرب کی تاریخ کے بارے میں جانا جائے۔ صلیبی جنگوں کے بارے میں جانا چاہیے اور ان کا پروپیگنڈہ پھیلایا جائے سوشل میڈیا پر ایسی چیزیں دیکھی جس سے ان کی نسلیں تباہ ہوجائیں اور عربوں کی طاقت کو مانا جائے۔


لیکن شاید پاکستانی ترکس ڈراموں نو کے ساتھ بہت خوش ہے اور وہاں سے بہت لفظ اٹھاتے ہیں۔حال ہی میں چل رہا ترک ڈرامہ ارتغل غازی نے تو سب کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ہر بوڑھا بچہ اس ڈرامے کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔اس ڈرامے کی خاص بات اس میں دیکھایا گیا اسلامی نظام آم اور اسلامی قوانین ہیں۔اس کا کردار ارطغرل غازی جوکہ پوری زندگی اللہ اور مسلمانوں کے لیے لڑتا رہا ہے۔
اس ڈرامے کی پروڈکشن نہایت ہی اعلیٰ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں