نظامِ شمسی کا سیارہ جس نے اتنی جانیں لے لیں.

آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ نظام شمسی کا نودریافت شدہ سیارے پلوٹو کب اور کس طرح دریافت ہوا اور ہمارے ماہرین فلکیات اب تک کی تحقیق کے بعد کہاں تک نظامِ شمسی میں اس کے کردار کو سمجھنے میں کامیاب ہوسکے ہیں ۔

 م1840میں معروف ماہر فلکیات اربن بحرین نے نیپچون کوسمجھنے کے لئے دوران تحقیق یہ محسوس کیا کہ سیارہ یورینس کے محور کو نیپچون کے علاوہ کوئی ایک اورسیارہ بھی ڈسٹرب کر رہا ہے جو اپنا وجود رکھتا ہے لیکن ابھی تک ہمارے ماہرین اس کو دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے لیکن لیویرئیر کی زندگی وفا نہ کرنے کی وجہ سے اگرچہ اس پر مزید تحقیق نہ ہو سکی لیکن یہ نظریہ بہرصورت اپنی جگہ قائم رہا اور پھر انیسو چھ میں ایک اور معروف ماہر فلکیات بغلول جو کہ 1994میں لولا فلیگ اسٹاف ایریزونا کا بانی تھا میں اس نئے سیارے کی تلاش پر اپنی ٹیم سمیت کام شروع کیا۔  اور اصطلاحی طور پر اسے پلانٹس کا نام دیا نوبل اور اس کی ٹیم نے 1916 تک اس پروجیکٹ پر کام کیا لیکن وہ کوئی اہم کامیابی حاصل نہ کر سکے سوائے اس کے کہ وہ 19 مارچ اور 7 اپریل 1915 کو اس کے بارے میں ابتدائی معلومات کی پہنچ سکے ۔ 1916 میں اپنی وفات تک بھرپور جدوجہد اور تحقیق کے باوجود لوئی اس کو دریافت کرنے کا اعزاز حاصل نہ کر سکا اس کے بعد اس کی بیوہ کو سلولی لوِی کے خلاف دس سال تک پلانٹس کی دریافت پر قانونی جنگ لڑی لیکن انیس سو انتیس تک کوئی نتیجہ اخذ نہ ہوسکا اور پھر یہ مشن ویسٹ امیر سلفر کو سونپ دیا گیا جس نے اس کی ذمہ داریاں 23سالہ پلائی ڈرامہ کے سپرد کردی جس نے اپنے پیش روؤں کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے بالآخر 18 فروری 1933 کو ایک سال کے بعد اس پوشیدہ سیارے کا سراغ لگا لیا جس کا باقاعدہ اعلان 13 مارچ 1930 کو کیا گیا ۔

اس کے بعد اس نودریافت شدہ سیارے یا ستارے کے نام کا مسئلہ درپیش تھا اسے طویل بحث و مباحثہ اور نظم کے بعد ایک نو سالہ اسکول طالبہ ملیشیا بننے کے تجویز کردہ نام کو تسلیم کرتے ہوئے اسے لوٹوں کے نام سے موسوم کیا۔ 

دوستوں ماہرین فلکیات کے نزدیک نوٹوں ہمارے نظام شمسی کا ایک ننھا منا اور بونا سیارہ ہے جو کہ ابتدائی معلومات کے مطابق برف اور چٹانوں پر مشتمل ہے جس کا وجود ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے چاند کے وجود کا چھٹا حصہ بنتا ہے جو کہ 248 سالوں میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے اور ٹون کی نسبت سورج سے زیادہ فاصلے پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ سورج کی روشنی جس کی رفتار 186000 میل جو کہ تقریبا تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ بنتا ہے جسے پلوٹو تک پہنچنے کے لیے ساڑھے پانچ گھنٹے درکار ہوتے ہیں ماہرین فلکیات کے بقول پلوٹو کے اپنے پانچ چاند ہیں اور ان میں سے سب سے بڑے چاند کا سائز فوٹو کا تقریبا نصف بنتا ہے 14 جولائی 2015 نیوہوریزونز پہلا خلائی جہاز تھا جس نے اس کی طرف سفر کیا اور اس نے اس کی جسامت اور اس کے چاند کے بارے میں دنیا کو معلومات سے نوازا 2016 میں مزید تحقیق کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ اس کے اوپر سرخی مائل بھورا رنگ جو کہ اس کی شمالی جانب دکھائی دیتا ہے اور مٹی اور پروٹین کے علاوہ دیگر کئی ایسی چیزیں موجود ہیں جہاں سے زندگی بھر سکتی ہے جو کہ میتھین نائٹروجن اور دیگر گیسوں کا سبب بن سکتی ہیں انیس سو تیس میں اس کے دریافت ہونے کے بعد 2006 تک ماہرین فلکیات اس کو نظام شمسی کا فرق ماننے پر تذبذب کا شکار رہے اور 2006 میں پہلی دفعہ اسے اس خاندان کا حصہ تسلیم کیا سالہا سال تک ماہرین کے نزدیک اس کے سائز اور اس کے سیاہ ہونے پر بحث اور مباحثے ہوتے رہے اور یہ مسئلہ زیر بحث رہا کہ کیا یہ چھوٹا سیارہ ہے یا کسی شے کا ٹکڑا ہے جو سورج کے گرد گردش کر رہا ہے۔ 

محترم دستیاب معلومات کے مطابق اس کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں 1930 میں دریافت ہونے والے پلوٹو کا وجود ایک کتے کا مقام بھی حاصل نہیں کرسکتا لیکن بہرحال یہ ایک موجود ہے اور اس کی مختصر تاریخ اگر آپ کو پسند آئے تو دوستوں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے ہمیں اپنی آراء سے بھی آگاہ کریں۔