نارتھ کوریا دنیا کا عجیب وغریب یا پھر خطرناک ترین ملک؟

ہم دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں وہاں جانے کے بعد ہمیں ان کے قوانین کو ماننا پڑتا ہے۔ لیکن کچھ ممالک کے قوانین ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے اور اپنے آپ کو اپنے ملک میں ہونا فخر خیال کرتا ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں ’’ نارتھ کوریا ‘‘ ایسے ممالک میں شامل ہے جس کے بارے میں کافی ’’ مِتھز ‘‘ اور ’’ فیکٹس ‘‘ گردش کرتے رہتے ہیں آج اس پوسٹ میں ہم آپ کو کچھ اس کے بارے میں بتائیں گے جس کو سن کر واقعی میں آزاد محسوس کریں گے۔

نارتھ کوریا کے سپریم لیڈر ’’کم جانگ اُن‘‘ کے دادا مرنے کے بعد بھی آج تک اس کے صدر ہیں۔ ان کی لاش ایک شیشے کے تابوت میں رکھی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے مرنے پر سب نارتھ کوریا کا رونا فرض قرار دے دیا گیا تھا۔ جو نہیں روتا تھا اسے سخت سے سخت سزا دی جاتی تھی۔ مزیدبراں ان کے مرنے کے دن کسی کو بھی سالگرہ یا خوشی منانا منع ہے۔

یہ بھی پڑہیں: مفتی عبدالقوی صاحب کو اس رمضان ٹرانسمیشن میں کیوں نہیں بلایا گیا؟ اسلام کے بارے میں کیا بیان دے دیا

اگر آپ نارتھ کوریا جائیں گے تو آپ کو ایسا تاثر دیا جائے گا جیسے یہاں ڈیمو کریسی ہے لیکن ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ’’ کم جانگ اِن ‘‘ کے علاوہ کسی اور کو ووٹ کرے تو اسے ٹارچر کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے، کہ پچھلے الیکشن میں یہ ۱۰۰ فیصد ووٹ کے ساتھ جیتا تھا۔

نارتھ کوریا میں صرف چند گنے چنے ٹی وی چینلز ہیں جنہیں گورنمنٹ چلاتی ہے اور وہی دکھایا جاتا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ اس ملک کے لوگ باہر کی دنیا سے بلکل بھی رابطے میں نہیں ہیں۔ انہیں وہی ماننا بڑتا ہے جو انہیں دکھایا جاتا ہے۔ ان کی کم علمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے، ۲۰۱۴ کے فیفا ورلڈ کپ میں ان کی ٹیم نے بھی حصہ لیا اور ۳۲نمبر پر آئی لیکن لوگوں کو دکھایا گیا کہ وہ پہلے نمبر پر آئے ہیں اور لوگوں نے سچ مان کر خوشیاں منائیں۔

یہ بھی پڑہیں: یوٹیوب اور ٹک ٹاک میں سے کون سا پلیٹ فارم اچھا ہے؟

اس ملک میں انٹرنیٹ کی سہولت ہر کسی کے پاس نہیں ہے۔ کچھ چند لوگوں کو ہی اس کی اجازت ہے۔ لیکن یہ بات ایک مِتھ ہے۔ کچھ سال پہلے ایک یوٹیوبر نے یہاں کا سفر کیا اور بتایا کہ یہاں انٹرنیٹ استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن دوسرے ممالک کی طرح یہاں گوگل سرف نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ان کی اپنا سرچ انجن ہے جہاں صرف کچھٍ گانے جیسا مواد ڈاونلوڈ کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ کسی چیز کو نہیں چیک کیا جا سکتا۔

کم جانگ اِن کے دادا اور اس کے باپ کے سٹیچو ہر ایک کلومیڑر کے بعد موجود ہیں جن کی بے حرمتی نا قابلِ معافی جرم ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس سے گزرنے والے کے لئے ضروری ہے کے وہ رک کر ان کو سلام کرے پھر آگے رخصت ہو۔

یہ ابھی کچھ ہی ایسی باتیں ہیں جو ہم نے بیان کیں۔ کیا آپ کبھی ایسے ملک میں رہنے کا سوچ سکتے ہیں جہاں پر اتنی پابندیوں کے ساتھ گھٹ گھٹ کر جھوٹ میں زندگی گزارنی پڑے۔ آج بھی لوگ پاکستان جیسے آزاد ملک میں رہ کر کوس رہے ہوتے ہیں اپنی قسمت کو۔ زندگی گزارتے وقت ہمیشہ اپنے سے کمتر کو دیکھ کر سیکھنا اور خود پر فخر کرنا چاہیے کہ جا آپ کے پاس ہے وہ اور بہت سے لوگوں کے پاس نہیں۔ آزادی بڑی نعمت ہے اس کی قدر کریں۔

آپ نارتھ کوریا کے اور کس کس فیکٹس کو جانتے ہیں۔ کمینٹ کر کے ہمارے ساتھ لازمی شیئر کریں۔ اور دوستوں کے ساتھ شئیر کر کے انہیں بھی ایسے ممالک کے بارے میں معلومات دیں۔