موبائیلز کیسے ہمارا ڈیٹا چوری کرتے ہیں؟ ٹروجن کیا ہوتا ہے؟

موبائیل استعمال کرنا آجکل ہمارے لئے جتنا ضروری بن گیا ہےاس سے زیادہ خطرنات بن چکا ہے۔ ہم آئے دن نئے نئے ایپلیکیشنز، گیمز وغیرہ انسٹال کرتے رہتے ہیں جو ہم ضرورت کے تحت یا پھر تفریح کےلئے بسا اوقات استعمال کرتے ہیں۔

لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جو موبائیل ہم استعمال کرتے ہیں، ہماری صرف ایک غلط انسٹال کی گئی ایپ، فائل، گیمز وغیرہ ہمارا تمام کا تمام ڈیٹا کہیں کا کہیں پہنچا سکتی ہے۔ اورہمیں تب ہوش آئے گا جب پانی سر سے گز چکا ہوگا۔

واٹس اپ، فیسبک تو آج کون نہیں جو اِسےاستعمال نہیں کرتا، چھوٹا بڑا ہر کوئی۔ ہمیں نامعلوم لوگ یا پھر اپنے ہی فرینڈز یا فیملی میمبرز نت نئے لنکس بیجھتے رہتے ہیں، جس کو بغیر سوچے سمجھے ہم کھول لیتے ہیں۔ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ یہ ہمارے لئے مفید ہے بھی یا نہیں۔ ایسے لنکس اوپن ہونے کے بعد ہمارے موبائیل میں خوفیہ ایپ یا فائل انسٹال کر دیتے ہیں، جس کو ہم چاہ بھی ڈھونڈ نہیں پاتے۔ یہ خفیہ فائل ہمارے موبائل میں ’’ سپائی ‘‘ کا کام کرتی ہے اور ہمارا ڈیٹا وقتا فوقتا فائل بنانے والے کو بیجھتی رہتی ہے۔ ایسی ایپ یا فائل کو ’’ بیک ڈور ‘‘ یا ’’ ریٹ ‘‘ کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑہیں: زوم سافٹ ویئر آپ کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

کافی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے موبائیل میں تو کچھ نہیں، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ ذاتی استعمال کی چیزیں صرف آپ کا بینک اکاونٹ نمبرز وغیرہ ہی نہیں ہوتے، بلکہ آپکے محفوظ کیے گئے کانٹیکٹ نمبرز، فیملیز کی تصویریں وغیرہ اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے، جسکو آپ اسوقت تو اتنا اہم نہ سمجھیں لیکن جب یہ کسی کے ہاتھ لگ جائیں تب آپ کو اِن کی قیمت کا اندازہ ہو۔

ہماری مائیں، بہنیں، بہو بیٹیاں وغیرہ سب ہی آجکل واٹس اپ، فیسبک کو استعمال کرتیں ہیں، اور صرف یہ سوچ کر کے کہ ’’ہم خود اگر ٹھیک ہوں تو کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘‘ اپنا ڈیٹا اپلوڈ کر دیتیں ہیں۔ اپنی اصل تصویریں، اپنا نام، اپنا ایڈریس وغیرہ دیتے ہوئے انہیں زرہ اس بات کا خیال نہیں ہوتا کہ یہ اگر خدانخستہ غلط ہاتھوں میں گیا تو پچھتانے کے علاوہ ہاتھ کچھ نہیں لگ سکتا۔

یہ بھی پڑہیں: انٹرنیٹ کا وہ حصہ جہاں آپ نہیں جاسکتے۔ نیٹ کے بھیانک رازدار حصے

آجکے دور میں ہم ٹیکنالوجی کوجتنا سمجھیں یہ ہمیشہ ایک قدم اگے ہم سے ہوتی ہے۔ ہم ابھی تک جو چیز بن چکی اور ختم ہو چکی اس کو بعد میں دیکھ کر حیران ہورہے ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے، ہاتھی کی دُم کے ساتھ ایک پورا ہاتھی بھی لگا ہوتا ہے۔ ہم اب ٹیکنالوجی سے بھاگ تونہیں سکتے لیکن کم سے کم اس کو اتنا کنٹرول کر سکتے ہیں کہ یہ ہمارے گھر والوں کے لئے وبالِ جان نہ بنے۔ ہمیں نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کیا استعمال کر رہے ہیں کیوں استعمال کر رہے ہیں اور کس کس وقت استعمال کر رہے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں وہ کچھ ایسا کر رہے ہیں جو مشکوک ہے توانہیں منع کرنے کی بجائے انہیں پیار سے سمجھائیں کہ یہ چیز حد سے گزری تو صرف ایک بندے کو نہیں بلکہ پورے کے پورے خاندان کو لے ڈوبے گی۔

کیا آپ کے گھر میں بھی کوئی ایسا ہے جو ہر وقت موبائیل کا استعمال کرتا ہے اور آپ نہیں جانتے کہ وہ کیا کرتا ہے۔ توہمیں نیچے کمینٹ کرکے لازمی بتائیں۔