48

پاکستان 14 اگست کو وجود میں آیا یا 15 اگست کو. اصل حقائق

پاکستان 14 اگست کو بنا تھا یا 15 اگست کو. پاکستانی یوم آزادی 14 اگست کو مناتے ہیں اور انڈین 15 اگست کو.حالانکہ دونوں ممالک ایک ہی وقت میں برٹش پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے انڈین انڈیپینڈینس ایکٹ 1947 کے تحت وجود میں آئے تھے ،اور اس ایکٹ میں واضح طور پر پندرہ اگست کی تاریخ مینشن کی ہوئی ہے۔ یہاں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پندرہ اگست کی تاریخ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس لئے دی تھی، کہ اسی تاریخ کو 1945 میں جاپان نے اتحادی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے، اور جنگ عظیم دوم کا خاتمہ ہوا تھا۔ لہذا وہ اس تاریخ کو وہ اپنے لئے خوش قسمت سمجھتے تھے۔ آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستانی آخر 14 اگست کو یوم آزادی کیوں مناتے ہیں۔

:یومِ آزادی 15 اگست

پاکستان میں پہلے دو یوم آزادی 15 اگست ہی منائے گئے تھے، اور جولائی 1947 میں پاکستان کی پہلی ڈاک ٹکٹس پر بھی یوم آزادی 15 اگست ہی لکھا ہوا تھا، اور تو اور پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے شائع کردہ 1948 کے دعوت نامے میں بھی پندرہ اگست ہی کو یوم آ زادی لکھا ہوا ہے۔ قائد اعظم نے خود ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والی اپنی تقریر میں بھی 15 اگست ہی کو آزادی کا پہلا دن کہا تھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ یہ تقریر چودہ اگست کو نشر ہوئی تھی۔ ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ہی لگتا ہے کہ 15 اگست پاکستان کا یوم آزادی ہے لیکن 14 اگست کو یوم آزادی منانے کی آخرپھر وجہ کیا ہے آئیے ان تین چار وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں۔

:پہلی وجہ

 وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے15اگست کو نئی آزاد ہونے والی ریاست انڈیا کو پاور ٹرانسفر کرنا تھی اور اس کی تقریب دہلی میں ہونا تھی اور یہ پندرہ اگست کو ہونا تھی۔ دوسری نئی آزاد ہونے والی اس پاکستان کو بھی پاور ٹرانسفر کرنا تھا اور 15 اگست ہی کو کرنا تھا۔ اب وائسرائے ایک ہی دن میں دونوں ممالک کی تقریبات میں شریک نہیں ہوسکتے تھے۔ اور نئی ریاست انڈیا نے 14 اور 15 اگست کی درمیانی رات 12 بجے سیلیبریشن کا اعلان کر دیا تھا اور ایکٹ کے مطابق بھی یہی ٹائم بنتا تھا لیکن یہاں صرف وائسرائے دونوں جگہ دستیابی کا مسئلہ ہی نہیں تھا، مسئلہ یہ بھی تھا کہ وائسرائے نے نئی ریاست انڈیا کا گورنر جنرل بھی بنا تھا جس پر انڈیا تیار تھا اس نے پاکستان کے بھی گورنر جنرل بنا چاہتے تھے لیکن قائد اعظم نے انکار کر دیا تھا یعنی اب اگر وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پندرہ اگست کی رات یا اس کے بعد پاکستان کو پاور ٹرانسفر کرتے تو بطور انڈین گورنر جنرل پاور ٹرانسفر کرتے ہیں۔ کیونکہ انڈیا کی ریاست تو چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی رات میں وجود میں آ چکی ہوتی تو ظاہر ہے یہ بات قائداعظم کو کسی طرح قابل قبول نہیں تھی کیونکہ پاکستان کو پاؤں ٹرانسفر کرنے کے لئے ایک برٹش وائسرائے کی ضرورت تھی نہ کہ انڈین وائسرائےکی۔ کیونکہ پاکستان کو پاور برٹش انڈیا سے ٹرانسفر ہونا تھی نہ کہ نئی انڈین ریاست سے۔ لہذا اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ملیشیا کا وائسرائے پاکستان اور 14 اگست ہی کو ٹرانسفر کردیں یعنی پندرہ اگست شروع ہونے سے پہلے پہلے، اس لیے ایک پروقار تقریب میں انہوں نے 14 اگست کو قائد اعظم محمد علی جناح کو کراچی میں پاور ٹرانسفر کر دی۔

:دوسری وجہ

 چودہ اگست 1947 کو رمضان المبارک کی 27 تاریخ تھی جو کہ تمام مسلمانوں کے لئے بڑی مبارک تاریخ سمجھی جاتی ہے اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کا وجود 22 ویں شب کے عین بیچوں بیج یعنی تیراں اور چودہ اگست کی درمیانی رات 12 بجے وجود میں آنا بہت ہی مبارک بات تھی۔

:تیسری وجہ

 کچھ لوگ پاکستان کے 14 اگست کو یوم آزادی منانے کی منطق یہ دیتے ہیں کہ 15اگست کو دونوں ریاستیں وجود میں آنا تھی لیکن بھارت کا معیاری وقت پاکستان سے آدھا گھنٹہ آگے تھا اس لئے جب دہلی میں چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی رات کو بارہ بجے تو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق ابھی یہاں 14 اگست کی رات کے ساڑھے گیارہ کا وقت تھا اس لیے پاکستان 14 اگست کو یوم آزادی مناتا ہے لیکن آپ کو بتاییں کہ یہ منطق ہمارے خیال میں غلط ہے کیونکہ 1947 میں پاکستان اور انڈیا کا ایک ہی ٹائم تھا جو تیس منٹ کا فرق آج کل آپ دیکھتے ہیں اس کا آغاز 1951 سے ہوا تھا۔

:چوتھی وجہ

 اس دور کے بعد صحافیوں کے مطابق 14 اگست کو یوم آزادی خود قائد اعظم نے ڈکلیئر کروایا تھا اور کیوں کہ ان کی شخصیت اتنی بڑی تھی کہ کوئی ان سے سوال جواب نہیں کر سکتا تھا اس لئے 14 اگست ہی کو یوم آزادی کہا جاتا ہے لیکن اس بات کا کوئی ثبوت یا ریکارڈ نہیں ہے کہ قائد اعظم نے خود 14 اگست کو یوم آزادی منانے کا حکم دیا۔ تو 14 اگست کو 27 رمضان المبارک ہونا اورپاور ٹرانسفر تقریب کا کراچی میں چودہ اگست کی تاریخ کو ہونا اور وائسرائے کا 15 اگست کو نئی ریاست انڈیا کا گورنر جنرل بنا۔ یہ تین ایسی بڑی مضبوط وجہ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان 15 اگست کو نہیں بلکہ 14 اگست کو یوم آزادی مناتا ہے۔ دوستو اگر اس آرٹیکل نے آپ کی معلومات میں اضافہ کیا تو انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور شیئر ضرور کیجئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں