332

کیسے سم سے آپکی موجودہ لوکیشن نکال لی جاتی ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

اگر آپ موبائیل کو استعمال کررہے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ موبائیلز سمز کے بنا بلکل ادھورے ہیں۔ اگر آپ اپنے موبائیل سے کسی کو ضرورت کے وقت کال کر کے بلا نہیں سکتے تو ایسے موبائیل کا فائدہ کیا ہو سکتا ہے۔

یہ چھوٹی سی نظر آنے والی سم دراصل ایک ٹریکنگ چپ ہوتی ہے جس میں آپ کے ڈیٹا کے ساتھ ساتھ آپ کے پورے خاندان کا ڈیٹا سٹور رہتا ہے۔ اس سم سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کون ہیں، آپ کہاں رہتے ہیں، آپ اس وقت کہاں پر ہیں اور مزید آپ کا شناختی کارڈ نمبر پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور اگر شناختی کارڈ نمبر نکال لیا جائے تو آپ کے شجرہ نصب کو نکالا جا سکتا ہے۔

ہر ملک میں مختلف نیٹورک کمپنیز کام کر رہیں ہیں اور یہ اپنے کسٹمرز کو انٹرنیٹ اور کال کرنے کے سہولیات میسر کرتیں ہیں۔ رجسٹر ہوتے وقت آپ کو اپنا تمام ڈیٹا ان کمپنیز کو دینا ہوتا ہے ۔ تا کہ فیوچر میں آپ کو شناخت کیا جا سکے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں اگر یہ ڈیٹا کسی ایسے بندے کے ہاتھ لگ جائے جو اس کا غلط استعمال کرنا جانتا ہو تو آپ کتنے بڑی مصیبت میں پھنس سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑہیں:  انٹرنیٹ کا وہ حصہ جہاں آپ نہیں جاسکتے۔ نیٹ کے بھیانک رازدار حصے

عام طور پر یہ ڈیٹا ’’ ڈیب ویب ‘‘ میں سٹور کیا جاتا ہے۔ ڈیب ویب انٹرنیٹ کا کونسا حصہ ہوتا ہے اس کی معلومات کے لئے آپ ہمارا پرانا آرٹیکل ’’ انٹرنیٹ کے وہ حصے جہاں آپ نہیں جا سکتے ‘‘ پڑھ سکتے ہیں۔ ڈیب ویب میں ڈیٹا کو محفوظ کر لیا جاتا ہے جو صرف تصدیق شدہ لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ڈیٹا عام طور پر تب استعمال میں لایا جاتا ہے اگر آپ سے کوئی خطرناک جرم منسلک کیا جائے اور پولیس آپ کی شناخت کی کمپنی سے مانگ کرے۔

آپ کے موبائیل میں یہ ایک چپ نما سم آپ کی ایک ایک وقت کی تفصیلات کمپنی کو فراہم کرتی ہے۔ مختصر یہ اگر آپ سم استعمال کر رہے ہیں تو آپ کسی طرح سے بھی اپنے آپ کو چھپا نہیں سکتے۔ مشکل وقت میں پولیس کمپنی کی مدد سےآپکو اسی چپ سے ڈھونڈ کر مدد بھی کر سکتی ہے۔

زیرِ طلب بات یہ ہے اگر آپ کا یہ ڈیٹا لیک کردیا جاتا ہے صرف کچھ پیسوں کے عوض تو اس صورتحال میں آپ کے ہاتھ میں ایسا کیا ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔ تو اس کا جواب صرف اتنا ہے کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑہیں: موبائیلز کیسے ہمارا ڈیٹا چوری کرتے ہیں؟ ٹروجن کیا ہوتا ہے؟

ڈیٹا چوری ہوجانے کا پروف ایک یہ بھی ہے کی آپ کو رانگ نمبرز سے کالز موصول ہونا شروع ہا جاتیں ہیں جس میں اگر کوئی نمبر کسی خواتین کا نکل آئے تو جان چھڑوانا مشکل ہو جاتا ہے۔ وقتا فوقتا کالز کر کر کے حراس کیا جاتا ہے اور باتیں کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور بات نہ کرنے کی صور میں خاندان کے نمبرز کو لیک کرنے کی دہمکی دی جاتی ہے۔

کسٹمرز کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنا ایک کمپنی کے فرائض میں شامل ہے اگر وہ کمپنی اس میں کامیاب نہیں ہوتی تو اس ملک کے قوانین کے مطابق وہ اس کی زمہ دار ہے۔ ہمیشہ اس نیٹورک کو استعمال کریں جو آپ کے ملک کا اپنا ہو نہ کہ کسی دوسرے ملک کا نیٹورک ہو جو آپکے ملک میں کام کر رہا ہو۔ ایسی کمپنیز جان بوجھ کر ایسا ڈیٹا اپنے ملک کی حکومت کو بیچ دیتیں ہیں تا کہ وہ اسکا استعمال ان کے خلاف وقت آنے پر کر سکیں۔

آپ کونسی سم کا استعمال کر رہے ہیں۔ کیا وہ نیٹورک پاکستان کا ہے؟ نیچے کمینٹ کر کے لازمی بتائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں