64

کیا واقعی انساں دماغ کا 10فیصد حصہ استعمال کرتا ہے؟

س جھوٹ کی ابتدا کہ انسان صرف اپنے دماغ کا صرف 10٪ استعمال کرنے کے قابل ہے انیسویں صدی سے ہوا اور تب سے یہ کسی سائنسی ثبوت کے بغیر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔یہ جھوٹ اس بات کے ساتھ مزید پھیل گیا کہ عظیم سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے اپنے دماغ کا استعمال 13٪ کیا تھا جو عام انسان سے 3٪ زیادہ ہے اور اسی کی بدولت انہوں نے اتنی حیرت انگیز سائنسی دریافتیں کیں اور لوگوں کا خیال تھا کہ اگر ہم اپنے دماغ کا 100٪ استعمال کرسکیں تو اس سے ہم دنیا میں حیرت انگیز ایجادات کرسکیں گے جو کسی معجزے سے کم نہ ہوں گی۔

:10٪ دماغ کا استعمال

یہ بات کہ ہم صرف 10٪ دماغ استعمال کرسکتے ہیں، آدھا سچ اور آدھا جھوٹ ہے۔ دراصل ہمارا دماغ 10٪ نیوران پر مشتمل ہوتا ہے جو معلومات کو پروسس کرنے اور منتقل کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے جبکہ بقیہ 90 ٪ گلیل سیلس سے بنا ہوتا ہے جو نیوران کے لئے ایک سپورٹ سسٹم کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کو موصلیت فراہم کرتے ہیں۔ دماغ کا بیشتر حصہ جسم میں کئ قسم کے عوامل کو کنٹرول کرنے میں مصروف رہتا ہے

آئیے ہم اسے ایک سادہ مثال سے سمجھتے ہیں، اپنے دماغ کو کمپیوٹر کا سی پی یو سمجھیں اور تصور کریں کہ آپ ویڈیو دیکھنے میں مصروف ہیں۔ سی پی یو ویڈیو چلانے میں اپنی ساری طاقت کا استعمال نہیں کررہا ہے۔ تاہم ، اس کے پس منظر میں اسے اینٹی وائرس پروگراموں کو چلانے ، یوایس بی پورٹس چلانے اور ہارڈ ڈرائیو کو گھومانے جیسے بہت سے دوسرے کاموں کو بھی زیر نظر رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑہیں: انٹرنیٹ کا وہ حصہ جہاں آپ نہیں جاسکتے۔ نیٹ کے بھیانک رازدار حصے

اب اسی طرح آپ کے ویڈیو کو دیکھنے کے وقت آپ کا دماغ جسم کے بہت سے دوسرے کام انجام دیتا ہے جیسے سانس لینا، دل کی دھڑکن برقرار رکھنا ، ویڈیو دیکھنے میں آنکھوں کی مدد کرنا یا کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرنا۔لہذا ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ آپ کے دماغ کا صرف 10 ٪ اس ویڈیو کو دیکھنے پر توجہ مرکوز رہتا ہے جبکہ باقی 90٪ آپ کے جسم کے دیگر بنیادی عمل انجام دینے میں مصروف ہوتا ہے۔ لہذا اس سوال کا جواب کہ ہم اپنے دماغ کو کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں وہ 100 ٪ ہے اور یہ تھیوری کہ ہم اپنے دماغ کا صرف دس فیصد استعمال کرتے ہیں محض ایک افواہ ہے۔

مزیدبراں انساں یہ سوچنے پر بھی مجبور ہو سکتا ہے کہ اگر دماغ صرف ۱۰۰فیصد ہی استعمال ہو سکتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اتنا ہی دماغ کیوں نہ دیا جتنا ایک انسان استعمال میں لاسکتا تھا۔ مسلماں ہونے کے ناطے ہمارا اس بات پر کامل ایمان ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کہ کوئی بھی بنائی ہوئی چیز فالتو یا بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ آجکل کی فلمیں ہو زیادہ تر یہودیوں کی بنائی ہوئیں ہیں ان کو دیکھنے کے بعد ہمارا نظریہ دگمگانے لگتا ہے اور ہم اپنے رب کی ہی بنائی چیزوں میں نقص نکالنے لگتے ہیں۔

آپ کو کیا لگتا ہے کیا واقعی انسان ۱۰فیصد حصہ دماغ کا استعمال کر سکتا ہے اور ایسا کیوں ہے؟ اپنے خیالات کا اظہار کمینٹ میں لازمی کریئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں