become rich in younger age 213

کم عمری میں پیسہ کیسے کمائیں، کونسی غلطیاں ہمیں امیر نہیں بننے دیتیں

پچھلے کچھ سال کا ڈیٹا اگر دیکھا جائے تو اِن 5سالوں میں ٹیکنالوجی نے اپنا ڈھیرا ہر جگہ جما لیا اور یہ آہستہ آہستہ اپنے آپ کو وسیع سے وسیع تر بناتی جا رہی ہے۔ پہلے پہل کسی اِکا دُکا بندے کے ہاتھ میں موبائیل یا لیپ ٹاپ نظر آتا تھا، اب بڑے سے لے کر چھوٹوں تک سب موبائیل کو ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں۔ جہاں اِس کے نقصانات ہیں وہیں پر اِن کے فوائد کو دتکارہ نہیں جا سکتا۔ انٹرنیٹ کی مدد سے گھر بیٹھے کمانا آسان ہوا اور کئی لوگوں کا روزگار اِس سے جُڑ چکا ہے۔

دورِ حاضر میں ہر کوئی جن میں زیادہ تعداد بی ایس طلباء کی رہتی ہے وہ کچھ نہ کچھ کام کرنا چاہتے ہیں تا کہ کچھ پیسہ ہاتھ میں آسکے اور وہ اُس سے کم سے کم اپنی ضروریات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ عمر کے اِس دور میں انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ انہیں کرنا کیا چاہیے۔ کون سا ایسا کام ہے جو وہ کر کے کچھ کما سکتے ہیں۔ اُن کی طلب کام کرنے کی تب زیادہ پھن مارتی ہے جب اُن کا کلاس ساتھی کام کر کے کما رہا ہو۔آج کے اِس آرٹیکل میں ہم آپ سے بات کریں گے کہ وہ کون سے فیکٹرز ہیں جن کو آپ نے اپنی پرانی عمر میں نظر انداز کیا اور کِن پر آپ ابھی بھی عمل کر کے چھوٹی عمر میں کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔

پیسے کے لئے اگر کوئی کام کریں گے یا کوئی کام سیکھیں گے تو پیسہ یا تو آپ کے ہاتھ ہی نہیں آئے گا یا پھر سسک سسک کر آپ کی جیب میں آئے گا۔ یہ فارمولا آزمایا ہوا ہے آپ چاہیں تو خود پر اِس کو ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ اِس بات کو ایک مثال کے ساتھ آپ کو سمجھاتے ہیں۔

آپ نے کسی کو کہتے سُنا کہ بھائی ویب سائٹ بنانے کا کام سیکھو بڑا سکوپ ہے گھر بیٹھے لاکھوں کماؤ گے۔ اب آپ نے اُسی دن ویب سائٹ بنانا سیکھنا شروع کر دیا۔ تھوڑا بہت سیکھا لیکن خود کی دلچسپی زیادہ نہ ہونے کی صورت میں جو سمجھ میں آیا سیکھ کر مارکیٹ میں اتر جاتے ہیں۔معیاری کام نہ آنے کی وجہ سے 3-4ہفتے انتظار کرتے ہیں اور دل برداشتہ ہو کر وہ کام ہی چھوڑ دیتے ہیں اور دل کو تسلی دی جاتی ہے کہ ہماری قسمت ہی خراب تھی۔

سب سے زیادہ چلنے والی غلطی جو آج کل کی نوجوان نسل کرتی ہے، کوئی دوست یا جاننے والا فائیور پر کام کر رہا ہے اور ہزاروں لاکھوں کما رہا ہے، یہ دیکھ کر نہ آؤ دیکھتے ہیں نہ تاؤ سیدھا فائیور پر جا کر پروفائل اور گِگ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ آتا جاتا کچھ نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی پوچھے تو کہتے ہیں بھائی ٹائپنگ کا کام کس کو نہیں آتا اور باقی کام جب تک آرڈر آئے گا سیکھ لیں گے۔ اب ایسے افراد کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ فائیور پر آرڈر آنے میں کم سے کم 6مہینے اور کئی بار ایک سال بھی لگ جاتا ہے۔ وہاں پر لگاتار آنلائن رہنا پڑتا ہے چاہے آرڈر آئے یا نہ آئے پر اپنی پروفائل کی ریٹنگ اچھی رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت آنلائن تا کہ کبھی بھی کوئی آرڈر میسج آئے تو وقت پر جواب دیا جا سکے۔ لیکن یہ کاپی کیٹ افراد 1ہفتہ آنلائن رہتے ہیں اور آخر کار اِس پر بھی دل ہار جاتے ہیں۔اور اگر قسمت اچھی ہونے پر کوئی آرڈر آبھی جائے تو ڈھنگ سے کام نہ آنے ک وجہ سے کلائنٹ بھاگ جاتا ہے اور پروفائل کی لگ جاتی ہے۔

آج سے 3-4 سال پہلے جب ہمارے پاس موبائیل تھا تو ہم پورا دن بیٹھے فضول فیس بک پر یا تو چولیاں مارتے رہتے تھے یا پھر بعض رانجھےبن کر ہر اس آئی ڈی پر ہائی، ہیلو، آپ کیسی ہیں، کوئی کام ہو تو بتانا،میں نے ابھی تک آپ کو دیکھا نہیں لیکن پھر بھی لگتا ہے دل کا رشتہ ہے آپ پر پیار آتا ہے وغیرہ کے جملے میسج کرتے تھے جو لڑکیوں کے نام پر تھیں۔ ٹھرک پن اصل میں فیس بک کی پیداوار ہے۔ اور اگر یہ کام نہ کیا تو پھر پورا دن بیٹھ کر گیمیں کھیلیں اور آوارہ گردی کی۔

اپنا وہ قیمتی وقت اُڑا کر اب جب وہ اپنے کسی ساتھی کو کماتے دیکھتے ہیں تو سارا ملبہ قسمت پر پھینک دیتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ جب آپ ٹھرکی بنے فیس بک پر گھوم رہے تھے یہ بندہ کچھ کام کر رہا تھا محنت کر کے کچھ سیکھ رہا تھا۔ لیکن اگر آپ اِن لوگوں میں سے ہیں تو آپ اپنے پچھلے وقت کو کوس کر دل برداشتہ ہونے کی بجائے ابھی پر غور کریں کیا ابھی بھی آپ وہی تو نہیں کر رہے۔

دنیا میں جتنے بھی لوگوں نے کم عمری میں کامیابی حاصل کی انہوں نے وقت سے پہلے اپنے آپ کو تیار کیا۔ کچھ لوگوں کے ذہن میں کے ایف سی کے بابے کی کہانی گھوم رہی ہوتی ہے کہ وہ پیسنٹھ سال کی عمر میں امیر بن سکتا ہے تو میں بھی بن جاؤں گا ابھی بڑا وقت پڑا ہوا ہے۔ آپ کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ بوڑھے امیر لوگوں کی ریشو نوجوان امیر لوگوں کی نسبت کافی کم ہے۔

اگر آپ کم عمری میں کچھ بننا چاہتے ہیں یا پھر کچھ کمانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو اپنی مینٹلٹی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ہمیشہ وہ کام کریں جو آپ کو پسند ہو۔ اگر آپ کو نائی کا کام بھی پسند ہے تو وہ کام شروع کر دیں، اگر الیکٹریشن کا کام پسند ہے تو وہ کریں۔ ضروری نہیں کہ اگر فلاں کوڈنگ کر کے کما رہا ہے تو آپ بھی اُس سے کما سکتے ہیں۔اگر آپ وہ کام کریں گے جس میں آپ اچھے ہیں اور جس میں مزہ آتا ہے تو یقین مانیں پیسہ خود چل کر آپ کی جیب میں آتا جائے گا۔سب سے پہلے سوچیں آپ کو کیا کرنا پسند ہے، پھر اُس میں بیسٹ بن جائیں۔ اپنے کام کو کبھی بھی پیسہ بنانے کے ارادے سے نہ کریں۔ اگر کسی نے آپ کو کہا کہ یوٹیوب پر کام کرو بہت پیسہ ہے تو آپ یوٹیوب پر ایک ویڈیو بنا کر سارا دن یوٹیوب کھول کھول کر یہی دیکھتے رہیں گے، کتنے لوگوں نے دیکھا کتنے پیسے بن گئے۔ آپ کا کانٹینٹ اچھا ہونے کی بجائے بُرا ہوتا جائے گا کیونکہ مقصد پیسہ ہے لوگوں کو اچھی چیز دیکھانا نہیں۔

ہمیشہ یاد رکھیں اگر آپ امیر بننا چاہتے ہیں تو کچھ بھی یہ سوچ کر نہ سیکھیں کہ اِس کو سیکھ کر پیشن تو پورا ہوگا ساتھ میں جاب بھی مل جائے گی. یہ سوچ ہمارے معاشرے میں گھَن پیدا کر رہی ہے. اگر آپ نے کچھ سیکھا ہے تو اُس کو پیشن کے ساتھ ساتھ اپنے خود کے بزنس کو بنانے اور آگے لے جانے کے لئے استعمال کریں. دنیا میں کوئی ایسا امیر شخص نہیں یا نہ ہونے کے برابر ملے گا جس نے جاب سے اپنے آپ کو امیر بنایا ہو. جاب آپ کو 3وقت کا کھانا کھانے کی سہولت تو دے سکتی ہے لیکن امیر بننے کی اجازت نہیں.

آپ انگلی پوائنٹ پر آنلائن پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے اُس کی پوری سیریز یہاں کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔ اگر یہ آرٹیکل آپ کو پسند آیا تو نیچے ووٹ باکس میں لازمی ووٹ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں