hagia sophia mosque 173

سلطنتِ عشمانیہ کو کس نے توڑا اور ہاجیہ صوفیہ کو مسجد بنانے کے پیچھے بھیانک راز

ترکی کو پاکستان اور بہت سے ممالک نے سب سے زیادہ تب جاننا شروع کیا جب اِن کا ایک ڈرامہ ارطغرل مشہور ہو گیا۔ اس ڈرامے میں سلطنتِ عثمانیہ کا عروج دکھایا گیا ہےاور اسلامی تاریخ کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا۔ اِ س ڈرامے نے کامیابی کے جھنڈے سب سے زیادہ پاکستان میں گاڑھے اور ڈرامے کی کاسٹ کو لوگوں نے ہیرو مان لیا۔ سلطنت، عثمانیہ کیسے ختم کی گئی اور کیسے اس سلطنت کے بعد آنے والے لوگوں نے اس کے ساتھ ہر طرح سے زیادتی کی، آج ہم آپ کو اس آرٹیکل میں بتائیں۔

سلطنتِ عثمانیہ

سلطنتِ عثمانیہ نے تقریبا 600سال سے زیادہ حکومت کی اور اسلام کو پوری دنیا میں پھیلایا۔ لوگ مثالیں دیا کرتے تھے سلطنتِ عثمانیہ کے جرات مند جرنیلوں اور اسلامی سپوتوں کی۔ لیکن جب پہلی جنگِ عظیم میں انہوں نے جرمنی کا ساتھ دیا اور ہار گئے تو رشیا نے پوری سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ اس جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ تو دیا لیکن جب جرمنی نے دیکھا کہ رشیا کا پلڑا بھاری ہے تو وہ آرام سے اس جنگ میں سے نکل گیا اور بے چاری عثمانیہ سلطنت بے گانی شادی میں رسوا ہو گئی۔

ایک مشہور مقولہ ہے کہ “بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ” کچھ اسی طرح پہلی جنگ عظیم میں اس سلطنت کے ساتھ ہوا۔ رشیا نے پکڑ کر اس کے ٹکڑے کیے اور 100 سال کا معاہدہ بھی ڈال دیا کہ اب یہ سلطنت 100سال میں نہیں بنائی جا سکتی۔ یہ وہی معاہدہ ہے جس کے بارےمیں کہا جاتا ہے کہ 2023 میں ختم ہونے والا ہے اور ایک بار پھر مسلمانوں کی حکومت شروع ہو گی۔

سلطنتِ عثمانیہ کے ٹکڑے اور اتاتُرک

ترکی میں جب اتاترک کی حکومت آئی تو اس نے خلافت ختم کرنے کا حکم دے دیا۔اس کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا نظام لایا جائے ۔ اس قرارداد کی بھر پور مزمت سلطان وحیدالدین نے کی لیکن انہیں وہاں سے جہاز میں بٹھا کر سعودیہ میں پہنچا دیا۔ اب ترکی پر مکمل راج اتاترک کا تھا۔ اس شخص کو بہت سے لوگ غلط اور بہت لوگ سہی بھی مانتے ہیں۔ اس نے ترکی کو سیکولر بنانا شروع کر دیا۔لوگوں کو اسلام یا پھر کوئی بھی مذہب کا پرچار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ لڑکے اور لڑکیوں کی ایک ساتھ تعلیم کو شروع کروا دیا۔عورتوں کے نقاب کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ بہت سی مسجدوں کو سکولز میں تبدیل کروا دیا وغیرہ۔

اتاترک اپنے آپ کو متقی مسلمان کہتا تھا لیکن بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اتھیسٹ تھا۔اس نے دین اور سیاست کو الگ کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ سیاست میں اگر دین ڈالا جائے تو قوم آگے نہیں جا سکتی۔ اس کے دور میں سخت سزائیں دی جاتیں تھیں دین کے پرچار پر۔ یہ بات سچ ہے کہ اس نے ترکی کو ترقی کے ایک الگ مقام تک پہنچایا لیکن اِ س نے اسلام کو خراب کرنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ اس نے کچھ ایسا آئین بنایا تھا کہ اگر کوئی بھی آئندہ حکومت اس کے بنائے قوانین کو ختم کرنے کی کوشش کرےتو خود بہ خود سارا کنٹرول فوج کے ہاتھ میں آجائے اور وہ حکومت کو الٹ سکے، اور اسی آئین کی وجہ سے بعد میں آنے والی بہت سی حکومت کا تختہ فوج نے الٹایا۔

طیب اردوگان کی حکومت

جب 2003 میں طیب اردوگان لیڈر بنے ترکی کے تو عوام نے انہیں بہت پسند کیا کیونکہ منتخب ہونے سے پہلے انہوں نے بہت سے کام ترکی کی بقا کے لئے کئے تھے جن کو عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتی رہی۔ اسی طرح جب وہ وزیراعظم کے لئے کھڑے ہوئے توعوام نے بھاری اکثریت سے انہیں جتوا دیا۔ انہوں نے بہت ہی کم وقت میں دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات بنائے،پیسے کی قیمت کو کافی اوپر پہنچا دیا،جی ڈی بی کو بہت کم عرصے میں 3 تک لے گئےوغیرہ۔ انہوں نے کافی ترقیاتی کام بھی کروائے۔ان کے اِس کام اور محنت کو دیکھتے ہوئے عوام نے انہیں لگاتار 2بار اور جتوا دیا۔ اردوگان آہستہ آہستہ سیکولزم کو ختم کر رہے تھے اور اسلامی ریاست کو بحال کرنا چاہ رہے تھے،انہوں نے آہستہ آہستہ مسجدوں کو قائم کیا، سیاست میں دین کو ترجیح دی، اسلام کو پروموٹ کیا وغیرہ۔ جب فوج نے سیکولرزم کو جاتے دیکھا تو ایک بار پھر سے حکومت کو الٹنے کے لئے تیاری شروع کر دی، لیکن اس بار کام تھوڑا الٹا پڑ گیا۔ جب آرمی نے ہلا بولا تو طیب اردوگان نے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کو کہا جنہوں نے فوج کے ٹینکوں کے آگے دھاوا بول دیا، اور فوج اردوگان حکومت کو نہ ختم کر سکی۔

ہاجیہ صوفیہ کو مسجد بنانے کے پیچھے کا راز

استنبول میں ایک عمارت جس کا نام ہاجیہ صوفیہ ہے، کو سلطنتِ عثما نیہ نے عیسائیوں پر غلبہ پا کر مسجد میں تبدیل کر دیا۔ لیکن اتاترک نے اپنے دور میں اِسے مسجد سے میوزیم میں تبدیل کر دیا، اور کافی وقت سے یہ بند بھی رہی۔ کچھ وقت پہلے طیب اردوگان نے اس کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔ کئی لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مسلسل الیکشن جیتنے کہ بعد طیب اپنے عہدے کے لالچ میں آگئے اور وہ اس میں اتنا گم ہو گئے کہ پچھلے 3 سے 4سالوں میں ترکی کی معشیت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے۔ جو جرنلسٹ یا استاد حکومت کے خلاف بولتا ہے اُسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ جرنلسٹ ترکی میں قید ہیں۔ اب طیب اگلے الیکشن کو جیتنے کے لئے دین کو بیچ میں لارہے ہیں تا کہ لوگوں کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ مائل اُس طرف کیا جا سکے، اور ہاجیہ صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنا بھی اسی معاملے کی ایک کڑ ی ہے۔تا کہ لوگ ملک کی معشیت کو بھول جائیں اور دین کے ایک نئے مدے کو اپنا لیں۔

آپ کو کیا لگتا ہے کہ واقعی طیب اردوگان کو عہدے کے تیز خنجر نے اپنی دھار میں دبوچ لیا ہے؟ اس کا جواب سب پوائنٹس کو مدِ نظر رکھ کر دیں اور اپنی پسند کا اظہار نیچے ووٹ باکس میں دیں۔ نئے نئے آرٹیکل کو پڑھنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سلطنتِ عشمانیہ کو کس نے توڑا اور ہاجیہ صوفیہ کو مسجد بنانے کے پیچھے بھیانک راز” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں