how govt ban internet 57

انٹرنیٹ کیسے کام کرتا ہےاورگورنمنٹ انٹرنیٹ کیسے بند کرتی ہے

انٹرنیٹ کے بنا ایک دن بھی گزارنا ہر کوئی جانتا ہے کہ آج یہ کتنا مشکل ہے۔ واٹس اپ، فیس بک، ٹویٹر وغیرہ اگر ہم ایک دن بھی نہ کھولیں تو ہماری نیندیں اڑ جاتیں ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کافی ممالک میں اگر گورنمنٹ چاہے تو کسی بھی ایریا میں انٹرنیٹ بند کر سکتی ہے۔ انٹرنیٹ بند ہونے کے بعد اس ایریا کا کوئی بھی انسان انٹرنیٹ پر کچھ بھی اسےاستعمال نہیں کر سکتا۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم بات کریں گے کہ گورنمنٹ کیسے نیٹ بند کرتی ہے ،اور کیا نیٹ کسی وی پی این سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کام کیسے کرتا ہے؟

ہمیں سب سے پہلے انٹرنیٹ کام کیسے کرتا ہے اسے سمجھنا پڑے گا۔ انٹرنیٹ عام طور پر فری ہوتا ہے۔ جتنی بھی آئی ایس پی (انٹرنیٹ سروس پروائڈر وہ کپمنیز جو ہمیں ڈیٹافراہم کرتیں ہیں) کمپنیز ہوتیں ہیں وہ انٹرنیٹ کو اپنے ملک میں لانے کے لئے جو وائرز ڈالتیں ہیں، نیٹ پر بس اسی کا خرچہ آتا ہے، یا پھر اگر وہ تاریں خراب ہو جائیں تو ان کو ٹھیک کرنے کا خرچ۔ اس کے علاوہ ان کو اور کوئی خاص پیسہ نہیں ڈالنا پڑتا۔لیکن ہم سے یہ ہر مہینے کے حساب سے پیسہ لیتیں ہیں پرافٹ کمانے کے لئے۔

آئی ایس پی 

ہم جب بھی انٹرنیٹ پر کچھ سرچ کرتے ہیں تو پہلےیہ ڈیٹا آئی ایس پی کمپنی کے پاس جاتا ہے اور پھر تاروں سے ہوتا ہوا اپنے متعلقہ ویب سائٹ کو ڈھونڈ کر ہمیں نتائج دکھاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب بھی ہم کچھ سرچ کرتے ہیں اس کے بارے میں ہمارے انٹرنیٹ کمپنیز کو پتہ ہوتا ہے۔ جب گورنمنٹ آرڈر جاری کرتی ہے کہ انٹرنیٹ فلاں ایریا میں بند کر دیا جائے تو یہ کمپنیز اُس ایریا کا کنکشن اپنی طرف سے کٹ کردیتیں ہیں۔ مطلب اب اگر کوئی کچھ بھی نیت پر سرچ کرے گا تو وہ سرچ پہلے کمپنی کے پاس جائے گی لیکن کمپنی نے اس ایریا کا اگے جانے کا رستہ بلاک کردیا ہے سو سرچ آگے جا نہیں پائے گا اورہمیں  ایرر دکھائے گا۔

وی پی این کیا ہے؟

جب ہم وہ پی این لگاتے ہیں تو یہ وی پی این ہمیں کسی اور ملک کے ساتھ جوڑ دیتا ہے اور ہمارا کنکشن اس ملک سے ہوتا ہوا آگے جاتا ہے۔ اس طرح جب بھی ہم کچھ سرچ کرتے ہیں تو درمیاں میں ایک وی پی این بیٹھا ملتا ہے جو پہلے اسے کسی دوسرے ملک میں لے جاتا ہے اور پھر جو ہم نے سرچ کیا اس کے نتائج دکھاتا ہے۔اسی طرح ہماری آئڈینٹٹی محفوظ رہتی ہے۔

جب کوئی ویب سائیٹ ہمارے ملک میں بند کر دی جاتی ہے حکومت کی طرف سے تو لوگ وی پی این کا استعمال کرتے ہوئے اس ملک سے کینکٹ ہو جاتے ہیں جہاں پر وہ ویب سائٹ چل رہی ہو اور اس طرح وہ اس سروس کا استعمال لے پاتے ہیں۔ اسکی جیتی جاگتی مثال پورن ویب سائٹس ہیں، جو عام طور پر بہت سے ممالک میں بند ہوتیں ہیں لیکن لوگ وی پی این کا استعمال کر کے اس کو کھول لیتے ہیں۔

کیا وی پی این سے بند انٹرنیٹ چلانا ممکن؟

یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا اگر انٹرنیٹ بند ہو جائے تو ہم وی پی این سے کھول سکتے ہیں۔ تو اس کا جواب ہے نہیں۔ کیونکہ اس کو کسی دوسرے ملک سے ہمیں کنیکٹ کرنے کے لئےنیٹ کی ضرورت ہے، اور وہ ہمارے پاس پہلے سے ہی نہیں، تو ہم فارغ بیٹھے رہنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔

امید ہے آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو گااور آپ کو کچھ نیا سیکھنے ملا ہوگا۔ اسی طرح کے معلومات سے بھرے آرٹیکل پڑھنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب کریں اورفیس بک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں