how free games make money 107

پلے سٹور پر موجود فری گیمز کروڑوں روپے کیسے کماتیں ہیں

اپنے فارغ وقت میں موبائیل یا لیپ ٹاپ میں گیمز کھیلنا ہمیشہ سے ہر چھوٹے بڑے کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ کئی گیمز اپنے کھیلنے والے کو اتنا محو کر دیتیں ہیں کہ انہیں باہر کی ہوش تک نہیں رہتی۔ دنیا کی آبادی لگ بھگ 7بلین ہے جس میں سے 200کروڑ لوگ ایسے ہیں جو ایکٹیولی گیمز کھیلتے ہیں۔ دنیا میں بڑی بڑی گیمز کی کمپنیز موجود ہیں جو ہر سال بہترین گیمیں مارکیٹ میں لانچ کرتیں ہیں۔ گیم کو دیکھ کر اس پر لگایا گیا پیسہ نظر آتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہمیشہ سے گھومتا رہتا ہے کہ اتناپیسہ لگانے کے بعد یہ کمپنیز کماتیں کیسے ہیں۔ آج ہم اس آرٹیکل میں اسی مدعے پر بات کریں گے اور جانیں گے ان کا بزنس ماڈل۔

گیم انڈسٹری کا بزنس ماڈل

گیمز کمپنیز بھی فلم انڈسٹی کی طرح سپلائی چین پر کام کرتیں ہیں۔ پہلے نمبر پر ڈیویلپرز گیم کو بناتے ہیں، دوسرے نمبر پر پبلشرز اُسی گیم کی مارکیٹنگ کرتے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ چل سکے، تیسرے نمبر پر ڈسٹری بیوٹرز جو گیم کو آگے دوکانوں یا آنلائن سٹورز میں سیل کر دیتے ہیں۔

پندرہ سے بیس سال پہلے جب کوئی گیم بنائی جاتی تھی تو اس کو سی ڈیز میں ڈال کر بیچا جاتا تھا اور کمپنی اسی طرح پیسہ کماتی تھی۔ لیکن بعدازان یہ ماڈل ختم ہو گیا۔ اب گیم کو آنلائن سٹورز جیساکہ گوگل پلے سٹور، امیزون، سٹیم وغیرہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کچھ گیمز فری میں انسٹال ہوتیں ہیں لیکن کچھ گیمز کو کھیلنے کے لئے انہیں خریدنا پڑتا ہے۔یہاں قابلِ حیرت بات یہ ہے کہ فری گیمز پیڈ گیمز سے کئی گنا زیادہ پیسہ کمالیتیں ہیں۔ فری گیمز میں عمومن 2 طرح سے پیسہ کمایا جا تا ہے، اشتہارات اور اِن ایپ پرچیز۔

اشتہارات

اشتہارات وہ ماڈل ہے جس سے دنیا کی بڑی بڑی کمپنیز کھڑی ہیں۔ گیمز کو بنانے کے بعد اس میں اشتہارات لگا دئے جاتے ہیں۔ کئی بار آپ نے دیکھا ہو گا کہ گیم کھیلنے کے دوران کوئی ویڈیو یا تصویر اچانک سامنے آجاتی ہے، اس کو اشتہارات کہا جاتا ہے اور اس سے اچھا خاصا پیسہ بنا لیا جاتا ہے۔

ان ایپ پرچیز

اس ماڈل میں پہلے لوگوں کو اپنی گیم کے ساتھ سہی طرح سے عادی بنایا جاتا ہے جیسا کہ آج کے دور میں پب جی ہے۔ عادی بنانے کے بعد انہیں گیم میں سے کوئن یا جیمز خریدنے کے لئے اکسایا جاتا ہے۔ لوگ آسانی سے 200 500 1000 کے کوئن وغیرہ خریدنا شروع ہو جاتے ہیں۔پب جی اور کلیش آف کلین جیسی گیمز جو کہ فری ہیں آج کروڑوں روپیہ کما رہیں ہیں صرف اسی بزنس ماڈل کی مدد سے۔

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس گیم یا ایپ کے جتنے زیادہ ڈاؤنلوڈ ہوتے ہیں اسے اس حساب سے پیسہ ملتا ہے۔ ایسا بلکل بھی نہیں ہوتا۔ ڈاؤنلوڈ سے کوئی پیسہ نہیں ملتا۔گیمز یا ایپس سے پیسہ کمانے کے ذرائع صرف زیادہ تر وہی ہیں جو اوپر میں بیان کر چکا ہوں۔

امید ہے کہ آپ کو اس آرٹیکل سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہو گا اور آپ کے اس سے متعلقہ سب شک وشبہات دور ہو گئے ہوں گے۔اسی طرح کے آرٹیکلز پڑھنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو لائک کریں۔اس آرٹیکل کے لئے اپنی پسند نا پسند کا اظہار نیچے ووٹ باکس پر کلک کر کے کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں