how film industry make money 103

فلمیں کیسے پیسہ کماتیں ہیں، فلمز کے کام کرنے کا مکمل بزنس ماڈل

فلمیں تو ہم سبھی دیکھتے ہیں اور کئی بار ہمارے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ پیسہ کیسے کماتیں ہیں۔یہ فلمیں تو تھیٹرز میں لگائی جاتیں ہیں تو تھیٹرزسے فلم کے پروڈیوسرز جنہوں نے کروڑوں روپے فلم کو بنانے میں لگائے ہوتے ہیں، کیسے وہ پیسہ کماتے ہیں اور کیا یہ فلمیں صرف تھیٹرز کے ٹکٹ سے ہی پیسہ کماتیں ہیں؟ آج ہم اسی پر بات کریں گے اور جانیں گے کہ ان کا ورکنگ ماڈل کیا ہوتا ہے۔

فلم انڈسٹری کے کام کرنے کے ماڈل کو سمجھنے کے لئے ہمیں سمجھنا ہو گا کہ ایک فلم کو بنانے میں کتنے سٹیجز ہوتے ہیں۔ عام طور پر فلم 4پارٹس میں بن کر تیار ہوتی ہے، ڈویلپمینٹ، پری پروڈکشن ، پروڈکشن اور پوسٹ پروڈکشن۔

ڈیویلپمنٹ

ڈویلپمینٹ میں کسی بھی فلم کی سکرپٹ پر کام کیا جاتا ہے۔ فلم کی کہانی کیا ہوگی، اس کے ڈائیلاگ کیسے ہوں گےوغیرہ۔ یہ پارٹ کسی بھی فلم کا بہت اہم حصہ ہوتا ہے اگر کہانی میں دم ہو تب ہی اس کے ہٹ ہونے کے چانسز ہوتے ہیں۔

پری روڈکشن

اس سٹیج میں تہہ کیا جاتا ہے کہ فلم کی شوٹنگ کس جگہ پر کی جائے گی، فلم کے ہیرو، ہیروئن اور باقی ایکٹرز کون ہوں گے۔

پروڈکشن

پروڈکشن سٹیج میں فلم کی شوٹنگ کی جاتی ہے جس حساب سے پچھلے 2سٹیجز میں اس کی پلاننگ کی گئی تھی۔ فلم کے شروع ہوے سے لے کر ختم ہونے تک سب چیزیں اس سٹیج میں کور کیں جاتیں ہیں۔

پوسٹ پروڈکشن

آخری سٹیج پوسٹ پروڈکشن میں فلم کی ایڈٹنگ، افیکٹس، میوزک،ساؤنڈ ڈیزائن وغیرہ کا کام کیا جاتا ہے۔

ان 4 سٹیجز کے بعد ایک فلم بن کر تیار ہو جاتی ہے اور یہاں تک جتنا بھی خرچ آتا ہے جیسا کہ ایکٹرز،ٹیکنیشنز، ایڈٹنگ وغیرہ کے وہ سب پروڈیوسر ادا کرتا ہے۔اب بات آتی ہے کہ پروڈیوسر نے پیسہ لگانے کے بعد اس سے پیسہ کیسے کماتے ہیں؟

سپلائی چین

یہ سارے کا سارا بزنس سپلائی چین پر کام کرتا ہے۔ فلم بننے کے بعد ڈسٹری بیوٹر کو دے دی جاتی ہے اور یہاں پر پروڈیوسرز کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ مطلب اگر فلم میں خرچہ 10کروڑ کا آیا اور پروڈیوسر نے وہ فلم ڈسٹری بیوٹر کو 20کروڑ میں بیچ دی تو پروڈیوسر کو 10 کروڑ کا فائدہ ہو چکا ہے ۔ اب فلم ہٹ ہو یا فلاپ، نقصان ڈسٹری بیوٹر کے ہاتھ آئے گا۔ڈسٹری بیوٹرفلم خریدنے کے بعد اس کی پارکیٹنگ کرنے پر اچھا خاصہ پیسہ لگاتے ہیں۔ آج کل سب جانتے ہی ہیں کہ فلاپ سے فلاپ چیز بھی اچھی مارکیٹنگ سے کیسےہٹ کروائی جا سکتی ہے۔ مارکیٹنگ کرنے پر اگر ڈسٹری بیوٹر نے 10کروڑ اور لگا دیا تو اب فلم 30کروڑ کی پڑ گئی۔

ڈسٹی بیوٹر کیسے پیسہکماتا ہے؟

فلم اب ریلیز کے لئے تیار ہو چکی ہے اور اب ڈسٹری بیوٹر کی باری ہے اس سے پیسہ کمانے کی۔سب سے پہلے ڈسٹری بیوٹرفلم کے میوزک اور سٹیلائٹ کے رائٹس ٹی وی چینلز کو بیچ کر کچھ پیسہ کماتے ہیں۔ ہم یوٹیوب پر جتنے بھی گانے دیکھتے ہیں وہ سب اُن چینلز والوں نے خرید کر اپلوڈ کیے ہوتے ہیں۔جتنی بھی فلمیں ٹی وی چینلز والے لگاتے ہیں وہ بھی خرید کر ہی دکھائی جاتیں ہیں ان کو سیٹلائٹ رائٹس کہا جاتا ہے۔ان سب کو بیچنے کے بعد ڈسٹری بیوٹر اچھا خاصہ پیسہ ریکور کر لیتے ہیں۔

اب ڈسٹری بیوٹر پورے ملک کے مختلف مختلف علاقوں کے ڈسٹری بیوٹرز کو فلم بیچ دیتے ہیں جو اپنے شہر کے سینما گھروں میں اس کو چلاتے ہیں۔ جتنا بھی پیسہ تھیٹرز کےٹکٹ سے آتا ہے اس کو گراس انکم کہا جاتا ہے۔اس گراس میں سے سب ٹیکس دینے کے بعد نیٹ انکم بچ جاتی ہے، جس کا کچھ حصہ تھیٹرز اپنے شہروں کے ڈسٹری بیوٹرز کے دیتے ہیں۔سنگل سکرین تھیٹرز میں اگر فلم نے 100کروڑ کما لیا ہے تو 25کروڑ تھیڑز کا ہوتا ہے اور باقی 75کروڑ اس شہر کے ڈسٹی بیوٹر کو چلا جاتا ہے۔لیکن ملٹی پلیکس تھیٹرز میں ہفتے کے حساب سے حصہ جاتاہے جیسا کہ پہلے ہفتے میں 50٪ تھیٹرز کا ہوتا ہے اور 50٪ ڈسٹری بیوٹرز کا، اگلے ہفتے تھیٹرز 60٪ اور ڈسٹری بیوٹرز 40٪، تیسرے ہفتے 70٪ تھیٹرز اور 30٪ ڈسٹری بیوٹرز، اور اگے اسی طرح تیسرے ہفتے کیطرح حصہ جاتا ہے۔

کئی بار ڈسٹری بیوٹرز ہی فلم کے پروڈیوسرز ہوتے ہیں کیونکہ فلم میں بہت بڑی بڑی کاسٹ کام کر رہی ہوتی ہے تو پروڈیوسرز رِسک لینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اور ہٹ ہونے پر ان کے پاس اچھا خاصہ پیسہ ہاتھ آتا ہے۔

امید ہے کہ اس آرٹیکل کی مدد سے کافی نیا سیکھنے آپکو ملا ہو گا۔ اسی طرح کے آرٹیکلز پڑھنے کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب کو فیس بک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں