Zoom-hacked

زوم سافٹ ویئر آپ کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے آج کل ہر کوئی گھر سے بیٹھ کر کام کر رہا ہے آپ کی کوئی بھی میٹنگ ہو یا کوئی بی کال آپ نے زوم ایپ کا استعمال کیا ہی ہوگا ۔

زوم ایک ایسا سوفٹ وئیر ہے جس کے ذریعے آپتقریبا سو لوگوں سے ایک وقت میں ویڈیو کال کے ذریعے بات کر سکتے ہیں۔اس سافٹوئیر کو آجکل خاص طور پر پر آن لائن کلاسز کے لیے اسکول کالجز اور یونیورسٹیاں استعمال کر رہی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا استعمال ایک بہت بڑے پیمانے پر وہ دفاتر اور کمپنیاں بھی کر رہی ہیں جن کے ملازم گھر سے کام کر رہے ہیں۔زیادہ تر کمپنیاں اپنی میٹنگ زوم سوفٹویر کے ذریعے کر رہی ہیں۔اس سافٹوئیر کو مارچ دو ہزار بیس تک تقریبا چار کروڑ سے زیادہ لوگ استعمال کر چکے ہیں۔اور تقریبا ایک لاکھ سے زیادہ کالجز اس وقت اس کو آن لائن کلاسز کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زوم سوفٹویر آپ کے لئے محفوظ ہے۔
کہیں یہ سافٹ ویئر آپ کی معلومات کو چوری تو نہیں کر رہا۔
حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے کہ ایک آن لائن کلاس کے دوران اچانک ایک اجنبی اس کال میں داخل ہوجاتا ہے اور کچھ عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں میں دو لوگوں کی کال کے درمیان کوئی تیسرا خود ہی شامل ہو جاتا ہے۔
سائبر سیکورٹی کے ماہرین نے اس ایپلی کیشن کو استعمال کرنے سے منع کیا ہے ان کے مطابق اس سوفٹویر کا دفاعی نظام ہیکرز کر کے خلاف بہت ہی نازک ہے۔جس کی وجہ سے کوئی بھی ہے ہیکر آرام سے اس پر اٹیک کرسکتا ہے اور آپ کی قیمتی معلومات چوری کرکے لے جاسکتا ہے۔گوگل اور اس جیسی بہت بڑی بڑی کمپنیوں نے اس سافٹ ویر پر پابندی لگا دی ہے ہے انہوں نے اپنے ملازمین کو صاف طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ کوئی بھی کمپنی کی کی آفیشل میٹنگ زوم ایپ کے ذریعے نہیں کرے گا ۔
آجکل تقریبا ہر ویڈیو کالنگ ایپلی کیشن ہمیں اینڈ ٹوائنڈ انکرپشن کی سہولت مہیا کرتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور سننے والے صارف کے درمیان کوئی تیسرا ایسا نہیں ہوگا گا جو ہماری بات کو سن سکتا ہے۔اسے آسان الفاظ میں سمجھیں تو کچھ ایسا ہے کہ کہ جو کچھ ہم بولتے ہیں ہیں وہ کچھ پیچیدہ کوڈ میں میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے صرف وہی موبائل یا ڈیوائس سمجھ سکتی ہے جس کے ساتھ آپ کال کر رہے ہیں۔
ہیکر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے تو اگر آپ کسی کے ساتھ بھی کال کریں کریں تو ایک پاسورڈ لازمی لگا لے۔تاکہ اس کالم میں صرف وہی شامل ہوسکے جس کو آپ نے وہ پاسورڈ بتایا ہے۔اور یہ پاسورڈ سکیورٹی کے اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ آپ میٹنگ کے لیے جب بھی کوئی لنک شیئر کرتے ہیں تو وہ وہ اسے ای میل کے ذریعے شیئر کریں نہ کہ اسے سے ایسے ہیں ہی میسج کردے۔کیوں کہ اگر آپ نے پاسورڈ نہیں لگایا ہوا اور وہ لنک کسی کو بھی مل گیا تو وہ آپ کی کال میں داخل ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ آپ ایک ویٹنگ روم بھی بنا سکتے ہیں ۔ جس کے ذریعے آپ صرف اپنی مرضی کے لوگوں کو ہیں ہی شامل ہونے کے لیے اجازت دے سکتے ہیں۔
ایک بار میٹنگ شروع ہوجائے تو آپ اس چیز پر لاکھ لگا دیں کے اب کوئی بھی اس میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکتا۔
زوما بھی ایک نئی کمپنی ہے اور اس کا استعمال ہی میں بہت زیادہ ہونا شروع ہوا ہے جس کی وجہ سے سے یہ روز بروز ز اپنی کمیوں یو کو درست کر رہی ہے اس لیے آپ روزانہ کی بنیاد پر زوم کے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرتے رہے۔تاکہ زوم کمپنی اپنی ایپلیکیشن میں کمیوں کو درست کرنے کے لئے جو بھی کام کر رہی ہے وہ اب تک اپڈیٹ کے ذریعے پہنچتا رہے۔