what is bitcoin 174

بٹ کوئن کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے، بٹ کوئن سے پیسے کیسے کمائیں

انٹرنیٹ آنے کی وجہ سے ہم آفلائن خریداری سے آنلائن خریداری کی طرف اپنا دھیان لے جا چکے ہیں۔انٹرنیٹ سے کوئی چیز منگوانا اور پھر اُدھر سے ہی آنلائن پیسے ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔کئی بار ہم کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہیں اور کئی بار دوسری آنلائن سروسز جیسا کہ اپنا بینک اکاؤنٹ، ایزی پیسہ، جیزکیش ، پے پال،پایونیر وغیرہ۔ ہم نے انٹرنیٹ سے کیا خریدا کیا بیچا، سب کا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اُس ملک کی گورنمنٹ نظر رکھتی ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا کہاں گیا، تا کہ بلیک منی کو کم کیا جا سکے۔

کچھ عرصہ پہلے مارکیٹ میں بہت سی آنلائن کرنسیز لانچ ہو چکیں تھیں جن میں سے بٹ کوئن بھی شامل ہے۔یہ کرنسی کچھ ہی وقت میں مارکیٹ میں اپنی دھاک بٹھا چکی تھی اور لوگوں نے لین دین آنلائن اِس کی مدد سے کرنا شروع کر دیا۔ ہر ملک کی کرنسی کی قیمت بڑہتی اور گھٹتی رہتی ہےجیساکہ پاکستان کے 167 روپے1ڈالر کے برابر ہے، اِسی طرح ایک بٹ کوئن کی قیمت آج 15لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔لیکن آگے بڑھنے سے پہلے ہم جانیں گے کہ آخر یہ بٹ کوئن ہے کیا اور یہ کام کیسے کرتا ہے۔

بٹ کوئن کیا ہے؟

بٹ کوئن کو 2008 میں ساتوشی ناکا موٹونامی بندے نے بنایا اور ایک ریسرچ پیپر آنلائن جاری کر دیا جو کہ ابھی بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔اِس ریسرچ پیپر میں بتایا گیا کہ کیسے ایک آنلائن کرنسی بنائی جا سکتی ہے اور اُس کی مدد سے آنلائن ہر طرح کا کاروبار کیا جا سکے گا۔اُس میں مکمل طور پر اُس کے بنانے کا اور کام کرنے کاطریقہ کار درج تھا۔ شروع شروع میں اِس کی قیمت ایک پاکستانی روپیہ کے برابر تھی لیکن آہستہ آہستہ بڑہتی چلی گئی۔

ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت کیسے بڑھتی ہے؟

یہاں بات قابلِ ذکر ہے کہ بٹ کوئن کی قیمت کیسے بڑھ گئی؟ فرض کریں میں ایک روپے کا سکہ لے آتا ہوں اور لوگوں کو کہتا ہوں کہ اِس ایک روپیہ کے سکے کی قیمت 100روپے ہے، لیکن لوگ مجھے پاگل سمجھیں گے۔لیکن اگر وہی ایک روپے کا سکہ بل گیٹس کہے کہ 100$ کا ہے تو بہت سے لوگ مان لیں گے، یا پھر 1000بندے کہیں کہ اِس ایک روپیہ سکے کی قیمت 1000$ ہے تو یقینا باقی لوگ اِس بات سے اتفاق کرنے لگیں گے۔یہی کام بٹ کوئن کے ساتھ ہوا، شروع شروع میں کوئی اِس کرنسی کو نہیں جانتا تھا لیکن آہستہ آہستہ لوگوں نے اِس کو ماننا ، خریدنا اور اِس کے ساتھ لین دین شروع کر دیا۔یہ کرنسی مکمل طور پر ڈیمانڈ اینڈ سپلائی والے فارمولے پر کام کرتی ہے مطلب جب کسی چیزکی ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو یہ مہنگی ہوتی چلی جاتی ہے اور اگر اِس کی سپلائی کم ہو جائے تو قیمت ڈاؤن ہو جاتی ہے۔لوگوں نے بٹ کوئن کی مدد سے آنلائن خریداری اور لین دین کا کام شروع کیا تو اِس کی ہائپ بڑھ گئی اور لوگوں نے اِسے خرید کر اپنے پاس رکھنا بھی شروع کر دیا جسکی وجہ سے اِس کی ڈیمانڈ بڑھی اور بٹ کوئن کی قیمت بھی بڑھنا شروع ہو گئی۔

پیر ٹو پیر سسٹم کیا ہے؟

بٹ کوئن پیر ٹو پیر سسٹم پر کام کرتا ہے، مطلب کہ اِس کا کوئی مالک نہیں ہےجیسا کہ ہم بنک کا استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی مسلہ آتا ہے تو اُس کی برانچ میں جا کر مسلہ بتاتے ہیں۔ اُس بنک کو کوئی نہ کوئی مالک ہوتا ہے جو اُس کو چلا رہا ہوتا ہے لیکن بٹ کوئن کے معاملے میں ایسا کوئی بندہ نہیں جس کے پاس اِس کا کنٹرول ہو۔ پیر ٹو پیر میں دنیا بھر میں ہم جیسے لوگوں کے کیمپیوٹرز ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ سب کے لیپ ٹاپس یا کیمپیوٹرز مل کر ایک سسٹم بنا دیتے ہیں اور سارا کام انہی کے ذریعے سے ہو رہا ہوتا ہے۔ بٹ کوئن کوئی فزیکل کرنسی نہیں ہے کہ آپ اپنے ہاتھ میں لے کر گھومیں، یہ صرف آپ کے اکاؤنٹ میں ڈجٹس کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔

بلاک چین اور بٹ کوئن مائننگ کیا ہے؟

بٹ کوئن بلاک چین متھالوجی کو اپناتی ہے۔ بلاک چین ایک سسٹم ہے جس میں ہزاروں کالکولیشنز پرفارم ہوتیں ہیں اور وہ کالکولیشنز ہونے کے بعد مختلف اکاؤنٹس کا حساب رکھا جاتا ہے۔جب کوئی بندہ اپنے اکاؤنٹ سے کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں بٹ کوئن سینڈ کرتا ہے تو ایک سیکرٹ کوڈ بن جاتا ہے، اب یہ کوڈ ڈیکوڈ ہونے کے بعد پتہ چلے گا کہ یہ کس بندے کے پاس بٹ کوئن جائے گا۔ اب اِس کو ڈیکوڈ کرنے کے لئے اچھے خاصے سسٹمز چاہیے ہوتے ہیں جو اِس کوڈ کو ڈیکوڈ کرسکیں۔ساتوشی کے ریسرچ پیپر میں ،یہ کالکولیشنز کیسے ہوگی، کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اب یہ کالکولیشنز کے لئے دنیا بھر کے کیمپیوٹرز یا لیپ ٹاپس جنہوں نے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہوتا ہے، اس کو ڈیکوڈ کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ جیسے ہی وہ ٹرانزیکشن ڈیکوڈ ہوتی ہے مطلوبہ بندے کے پاس بٹ کوئن پہنچ جاتا ہے اور جس کیمپیوٹر نے اِس کو سب سے پہلے ڈیکوڈ کیا اُسے کچھ معاوضہ بٹ کوئن کی شکل میں دے دیا جاتا ہے۔چونکہ ایک ٹرانزیکشن کو کرنے کے پیچھے لاکھوں سسٹمز موجود ہیں اسلئے بٹ کوئن مطلوبہ بندے تک ٹرانسفر نہ ہو اس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اِس پورے پراسیس کو بٹ کوئن مائننگ کہا جاتا ہے۔

کیا بٹ کوئن ہیک کیا جا سکتا ہے؟

یہ کالکولیشنز اور اِس کا میتھی میٹکس اتنا طاقتور ہے کہ اگر آپ چاہیں بھی تو اِس کو ہیک نہیں کر سکتے۔ اِس کی ایک ٹرانزیکشن کو ہیک کرنے کے لئے آپ کو دنیا بھر میں جگہ جگہ سوپر کیمپیوٹرز لگانے پڑیں گے کیونکہ جب بھی کوئی ایک ٹرانزیکشن ہوتی ہے تو یہ کسی ایک دو کیمپیوٹرز سے نہیں ہو رہی ہوتی بلکہ دنیا کے کونے کونے میں موجود لوگوں کے سسٹمز سے ہوتی ہے اور اگر آپ 100 500 کو ہیک کر بھی لیں تو باقی سب لوگوں کے سسٹمز پر ڈیٹا موجود رہے گا اور کالکولیشنز ہوتیں رہیں گی۔فرض کریں کہ اگر کوئی کسی بنک کے سسٹم کو ہیک کرنا چاہے تو اسے صرف بنک کے سرور کو ٹارگٹ کرنا ہے ۔ جیسے ہی بنک کا سرور ہیک ہوا سارا ڈیٹا اور پیسہ نکالا جا سکتا ہے۔ لیکن جب سرور دنیا میں موجود لاکھوں کروڑوں ہوں گے تو سب کو ہیک کرنا ناممکن تک چلا جائے گا۔

ساتوشی ناکاموٹو کون تھا؟

بٹ کوئن کے بارے میں آپ ان کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر پڑھ سکتے ہیں۔بٹ کوئن لانچ ہونے کے بعد اس کا بنانے والا کون تھا، کہاں سے آیا تھا کسی کو نہیں پتہ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ساتوشی کوئی انسان نہیں تھا بلکہ یہ کچھ کمپنیز ہیں جنہوں نے اِسے بنایا۔ بٹ کوئن بلاک چین کی سب سے پہلی کرنسی تھی، اس کے بعد بہت ساری کرنسیز مارکیٹ میں آچکیں ہیں لیکن بٹ کوئن سب سے اوپر مانی جاتی ہے۔

بٹ کوئن غیر قانونی کیوں؟

بہت سی گورنمنٹ نے اِسے بین کر رکھا ہے کیونکہ اِس کو ٹریس کرنا ممکن نہیں ہے۔ پیسہ کہاں سے آرہا ہے کہاں جا رہا ہے، اس سب کی تفصیلات بلاک چین کی ویب سائٹ پر ہر کوئی آسانی سے دیکھ سکتا ہے۔ بٹ کوئن ایک اوپن سورس پروگرام ہے کوئی بھی ڈیویلپر اُس کوڈ کو بٹ کوئن ویب سائٹ پر دیکھ سکتا ہے اور چاہے تو چینج کر کے بہتر بھی کر سکتا ہے۔ جب آپ بٹ کوئن کا والٹ بناتے ہیں تو آپ کو ایک ایڈریس مل جاتا ہے۔ اِس ایڈریس کی مدد سے دنیا بھر سے کہیں بھی لین دین کیا جا سکتا ہے۔ بلاک چین ویب پر کس ایڈریس سے ٹرانزیکشن ہوئی کتنی ہوئی ساری تفصیلات ہوتیں ہیں، لیکن وہ ایڈریس کس کا ہے ، کبھی پتہ نہیں چلایا جا سکتا۔ اِسی بنا پر بہت ملکوں میں یہ بین ہے۔

بٹ کوئن کے سوال و جواب کے سیکشن میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ دنیا میں ایسی کون سی کرنسی ہے جس سے منی لانڈرنگ نہیں کی جا سکتی۔ بٹ کوئن سے بھی جہاں لوگ غیر قانونی کام کر رہے ہیں وہیں پر اِس سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان میں بٹ کوئن کو قانونی درجہ دینے کے لئے ابھی بھی کچھ لوگ کوشاں ہیں۔ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک انٹرنیٹ کی کرنسی ہے۔ مطلب اگر کل کو انٹرنیٹ بند ہوتا ہے، بٹ کوئن بھی ختم ہو جائے گا جو کہ ایک ناممکن سی بات سننے میں لگتی ہے۔

بٹ کوئن میں انویسٹ کرنا کیسا؟

کیا آپ کو بھی بٹ کوئن میں انوسٹ کرنا چاہیے تو اس کا جواب ہے کہ اگر آپ کے پاس اندھا پیسہ ہے تو آپ بٹ کوئن خرید سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بٹ کوئن کا کہنا ہے کہ یہ آپ کو امیر نہیں بنا سکتی بلکہ یہ آپ کے پیسے کو محفوظ بنانے کے لئے لانچ کی گئی تھی۔ آج دنیا میں بہت سے لوگ اپنے لیپ ٹاپ یا پھر سپیشل سسٹمز بٹ کوئن مائننگ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس بھی کوئی فالتو لیکن اچھی خصوصیات کا حامل کوئی سسٹم ہے تو آپ بھی اُسے مائننگ کے لئے استعمال کر کے کچھ پیسے بنا سکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ مائننگ کرنے سے سسٹمز کچھ وقت کے بعد خراب ہو جاتے ہیں، مطلب استعما ل کے قابل نہیں رہتے۔

بٹ کوئن آسان الفاظ میں

پورے آرٹیکل کی اگر سمری پیش کی جائے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ بٹ کوئن نہ دکھنے والا پیسہ ہے جس کو آنلائن کام میں لیا جاسکتا ہے ۔ اس کو دنیا بھر کے کیمپیوٹرسسٹمز بناتے ہیں۔ اِس کا کوئی مالک نہیں۔ ہر کوئی جو چاہے اس کے کوڈ ، اِس کے ٹرانزیکشنز کو دیکھ سکتا ہے لیکن ٹریس نہیں کر سکتا۔ یہ کرنسی آپ کی پہچان کو محفوظ رکھتی ہے۔مزید انفارمیشن بٹ کوئن ڈاٹ او آر جی اور بلاک چین ڈاٹ کام پر دیکھ سکتے ہیں۔

امید ہے آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو گا اور کچھ نیا سیکھنے کو ملا ہو گا۔ انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب کریں اور فیس بک پیج کو لائک کر کے اسی طرح کے آرٹیکلز کی نوٹیفیکیشن اپنے موبائل پر سب سے پہلے حاصل کریں۔ ہمیں اپنی پسند کا اظہار نیچے ووٹ باکس پر کلک کر کے لازمی دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں