ertugrul-gazi-drama

ارتغل غازی کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو دوبارہ بحال کیا جائے گا- بڑے انکشافات

دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کو ختم کردیا گیاأس وقت کے حالات کے مطابق ترکی کے بانی کمال اتاترک نے مغرب کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا جس معاہدے کا نام معاہدہ لوزان رکھا گیا-
اس معاہدے کے مطابق سلطنت عثمانیہ کو ختم کردیا گیا اور ترکی کی تینوں براعظموں میں موجود سلطنت عثمانیہ کے اثاثوں سے دستبرداری کا اعلان کر دیا گیا۔
اسی معاہدے کے مطابق ترکی کو ایک سیکولر ریاست کا درجہ دے دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ ساتھ ترکی پر یہ پابندی بھی لگا دی گئی کہ وہ اپنے ملک میں سے کسی میں معدنیات کو نہیں نکال سکتا۔
معاہدہ لوزان کے مطابق ترکی اپنے ملک کی سمندری حدود سے گزرنے والے کسی بھی جہاز سے ٹیکس وصول نہیں کرتا کیونکہ فاسفورس کو ایک عالمی سمندر کا درجہ دے دیا گیا۔
معاہدہ لوزان سو سال کی مدت کے لئے تھا جو کہ 2023 میں ختم ہو جائے گا
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوبارہ ترکی پہلے کی طرح ایک سلطنت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ طیب اردگان جو کہ ترکی کے 25th صدر ہیں وہ اپنی تقریروں میں کئی بار یہ کہتے ہوئے سنائی دیے ہیں ہے کہ 2023 کے بعد بعد ترکی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
پچھلے کچھ سالوں میں طیب اردگان مسلمانوں کے ایک ہیرو کی طرح عمر کرائے ہیں۔مسلمانوں کے لئے ان کے دل میں محبت اور جذبہ دیکھ کر ہر مسلمان ان کا چاہنے والا بن چکا ہے۔
شام کے سب سے زیادہ پناہ گزینوں کو کو طیب اردگان نے ترکی میں پناہ دے رکھی ہے ۔طیب اردگان فلسطینی مسلمانوں کی حفیہ مدد بھی کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ تمام بین الاقوامی فارمز پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر آواز اٹھاتے ہیں۔
ایک جگہ پر طیب اردگان فلسطین کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ کر اٹھ گئے کہ میں بچوں کے قاتل سے بات کرنا پسند نہیں کرتا۔
ہال ہی میں پاکستان میں ایک ڈراما ارتغل غازی دکھایا جارہا ہے جو کہ سلطنت عثمانیہ کی شروعات کی عکاسی کرتا ہے ۔
ارتغل غازی زیادہ مقبول اس وقت ہوا جب عمران خان نے اپنی چند تقریروں میں اس ڈرامے کی تعریف کی اور اسے دیکھنے کا مشورہ دیا
ارتغل غازی ڈرامے کی خاص بات اس میں دیکھائیں گئی مسلمانوں کی روایات رسم و رواج اور قوانین ہیں ہیں کہ کس طرح مسلمانوں نے اللہ کی مدد سے سے پورے تین براعظموں میں حکومت کی۔
اس ڈرامےارتغل غازی کے مرکزی کردار ارطغرل اور حلیمہ کو پاکستان میں بہت پسند کیا جارہا ہے۔
ارتغل غازی کے یوٹیوب چینل نے صرف دو ہفتوں میں میں دو ملین سبسکرائبر مکمل کر لیے ہیں اور اب وہ یہ عزم رکھتے ہیں کہ اس چینل کو یوٹیوب کی تاریخ میں سب سے زیادہ ایک مہینے میں سبسکرائبر حاصل کرنے والا چینل بنایا جائے
اس ڈرامے سے مسلمانوں کے اندر ایک جذبہ پیدا ہو رہا ہے ۔ اوران کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ کیا دوبارہ سلطنت عثمانیہ وجود میں آسکتی ہے ۔کیا دوبارہ ان سب ممالک کے قبضہ کیا جاسکتا ہے جو پہلے مسلمانوں کے تھے ۔
اس سوال کا جواب آسان نہیں ہےکیونکہ جو ممالک سلطنت عثمانیہ سے الگ ہوئے تھے اب ان ممالک کی اپنی ایک حیثیت ہے اور ان میں سے کئی تو بہت طاقتور ممالک ہیں ہیں تو اب ایسا ممکن نہیں کہ کسی جنگ کے زور پہ ان ممالک پر قبضہ کیا جاسکے اب اس دنیا کی کی سرحدیں ایک اختتامی شکل اختیار کر چکی ہے ہے اب اس میں تبدیلی بہت مشکل ہے-
ہاں سو سال کے بعد ترکی کو اس معاہدے سے آزادی ملنے سے یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ اس کی معیشت بہت مضبوط ہوجائے گی۔اگر ترکی کو صرف اس کے ملک سے تیل نکالنے کی اجازت دے دی جائے آئے اور بندرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس لینا شروع کر دے تو اس سے ترکی کے معیشت بہت مضبوط ہو جائے گی۔
اور اس ڈرامے سے فائدہ یہ ہوگا کہ جو مسلمان امت اپنی روایات اور اصولوں کو بھول چکی ہے اور وہ یہ سمجھتی ہے کہ ہم مغرب کے اصولوں پر عمل کرکے ہی کامیاب ہوسکتے ہیں ہیں وہ لوگ لوگ اپنے ان ماضی کے کے پیروں کو دیکھ کر کر سیکھ لیں گے کہ مسلمان اپنے نے خدا کے بتائے ہوئے قوانین پر عمل کرکے کے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔