how twitter 2020 accounts hacked 153

ہسٹری میں ٹویٹر کا سب سسے بڑا ہیکنگ اٹیک اور پیسوں کا فراڈ سامنے

سوشل میڈیا کون نہیں استعمال کرتا اور جب سوشل میڈیا کی بات کی جاتی ہے تو فیس بک سب سے پہلے ذہن میں اپنا ڈھیرا جماتی ہے کیونکہ یہ اس وقت چھوٹے بچے سے لے کر بڑے لوگوں تک،ہر کوئی استعمال کر رہا ہے کیونکہ یہا ں پر فن، ٹیکنالوجی، ولگر وغیرہ ہر چیز دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ وہیں پر جب ٹویٹر کی بات کی جائے تو ہم جان جاتے ہیں کہ یہ صرف پروفیشنل یا پھر سیاست کے بڑے ستارے ہی استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہاں پر کام سے ہٹ کر کوئی کم ہی ٹویٹ/پوسٹ دیکھنے ملتی ہے۔ بہت سے لوگ خواہ اُن کا تعلق سیاست سے ہو، کسی بڑی کمپنی کے مالک ہوں،کوئی فلم ایکٹر یا ایکٹرس ہوں سب ہی ٹویٹر کو اپنے فینز سے کونیکٹ رہنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ٹویٹر ایک ٹرینڈ بن چکا ہے اور یہاں پر بہت کم بہ نسبت فیس بک کے لوگوں کے فیک اکاؤنٹ دیکھنے میں آتے ہیں۔

twitter hack 2020

بروزبدھ 15جولائی 2020 کو ہسٹری کا سب سے بڑا ٹویٹر اکاؤنٹ ہیکنگ اٹیک دیکھنے کو ملا جس میں بڑی بڑی کمپنیز کے مالکان جیسا کہ بل گیٹس ،جیف بیزوس، سیاست دان جیسا کہ براک اوباما وغیرہ کے اکاؤنٹس کو ہیک کر لیا گیا اور وہاں پر ٹویٹ ڈال دیں گیئں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہم تمام لوگوں کو ایک آفر دے رہے ہیں جس میں اگر کوئی ہمیں 1000$ ،50000$سینڈ کرے گا تو ہم اسے ڈبل واپس کریں گے اور یہ آفر صرف 30منٹ کے لئے ہے۔نیچے ہیکرز نے بٹ کوئن کا ایڈریس دے رکھا تھا جہاں پر پیسے دینے کو کہا گیا تھا۔یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بٹ کوئن ایسی کرنسی ہے جس کو ٹریس نہیں کیا جا سکتا، اگر کوئی اِن ہیکرز کو پیسہ دے دیتا ہے تو کوئی راستہ نہیں کہ اُس پیسےکو ٹریس کیا جاسکے کہ وہ کہاں گئے۔بٹ کوئن کیسے کام کرتی ہے اِ س پر ہم جلد ایک آرٹیکل لے کر آئیں گے۔

مزید پڑہیں: بٹ کوئن کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے، بٹ کوئن سے پیسے کیسے کمائیں

جن لوگوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس سے ٹویٹ کی گئی تھی وہ سب کہ سب ہائی پروفائل لوگ تھے، مطلب اُن کو لاکھوں کروڑوں لوگ فالو کر رہے تھے۔ اب اگر ایسے لوگوں کے اکاؤنٹس سے ٹویٹ کیا جائے تو لوگ آنکھیں بند کر کے اُن پر اعتبار کر یں گے اور پیسے بھیج دیں گے۔ابھی تک کتنے لوگوں نے پیسے دئے اِس کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔لیکن ٹویٹر نے ان سب کے اکاؤنٹس کو فریز کر دیا تا کہ کوئی مزیدایکٹیویٹی نہ ہو سکے۔

ٹویٹر نے بتایا ہے کہ تقریبا 130 سے 150 لوگوں کے اکاؤنٹس ہیک کئے گئے تھے اور سب کے سب ہائی پروفائل لوگ تھے۔ ہیکرز نے ٹویٹر کے ایمپلائیز کے اکاؤنٹس کو ہیک کیا اور اُس سسٹم تک رسائی حاصل کر لی جو صرف اور صرف ٹویٹر کے سٹاف کے استعمال کے لئے بنایا گیا تھا۔ ہیکرز نے اُس سسٹم کو ہیک کر کے اُس سے اکاؤنٹس کا ڈیٹا اُٹھا لیا تھا۔ مزید ٹویٹر کا کہنا تھا کہ ہیکرز نے تمام اکاؤنٹس کی پرسنل انفارمیشن بھی نکال لی تھی جیسا کہ نام ، ایڈریس، میسجز وغیرہ۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا ہے انہیں ٹریس کرنے کی کوشش جاری ہے اور ٹویٹر اپنے سسٹم کو سیکیور کرنے میں بھی لگا ہوا ہے۔

اس طرح کے بڑے اٹیک کے پیچھے چھوٹے موٹے لوگ نہیں ہوا کرتے بلکہ پوری کی پوری ہیکنگ کمپیونیٹی اِنوالو ہوتیں ہیں اور کوئی نہ کوئی آفس کے اندر کا بندہ بھی شامل ہو سکتا ہے جس کہ پاس پوری جانکاری ہو۔پاکستان میں بھی اِاس طرح کے بہت فراڈ ہو چکے ہیں جس میں لوگوں کو پیسے دے کر 10 سے 15دن میں ڈبل کرنے کا کہا جاتا رہا ہے لیکن ٹویٹر کہ اِس فراڈ میں ڈیجیٹل سروس کا استعمال کیا گیا تا کہ کوئی آرام سے پکڑا نہ جا سکے۔

امید ہے آپ کو یہ آرٹیکل پسند آیا ہو گا ، اپنی پسند کا اظہار نیچے ووٹ باکس میں کریں۔ انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو لائک کر کے ایسے ہی آرٹیکل کی نوٹیفیکشن اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں