ertugrual-gazi-imran-khan

ارتغرل غازی کے کون کون سے کردار کی کیاکیا خوبی پاکستانی سیاستدانوں کے ساتھ ملتی ہے۔

پاکستانی ٹی وی پے ہر وقت کوئی نہ کوئی ایک ڈرامہ سرخیوں میں رہتا ہے۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے  پاکستان میں ایک ڈرامہ میرے پاس تم ہو بہت ہی مشہور ہوا تھا اس کے بعد ایک اور ڈرامہ عہدے وفا جو کہ کہ اپنی منفر کہانی کی وجہ سے بہت مشہور ہوا تھا اور آج کل آپ سب جانتے ہیں کہ ایک ڈرامہ ہر فرد کی زبان پے ہے اور اس کا نام ہے ارتغرل غازی۔
پاکستان میں تمام تفریحی مقامات اور سینماگھر بند ہے ۔ اور تمام لوگ گھر پر ہی بیٹھے ہیں اس کی وجہ سے ترکش ڈرامہ ارطغرل غازی کی مقبولیت میں بے شمار اضافہ ہوا ہے لوگوں نے اپنی بوریت کو مٹانے کے لیے ڈرامے کا سہارا لے لیا ہے اگر اس ڈرامے کی یوٹیوب پر دیکھنے والوں کی تعداد کو دیکھا جائے یے تو وہ کیں بلین میں جا چکی ہے۔
یوٹیوب پر اس ڈرامے کے 3 ملین سبسکرائبر ہوچکے ہیں اور اب اس چینل نے ایک ریکارڈ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں یوٹیوب کی تاریخ میں ایک مہینے میں سب سے زیادہ سبسکرائبر حاصل کرنے والا چینل بن جائے گا۔۔
اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ پاکستانیوں نے اس ڈرامے کے کرداروں کا موازنہ اپنے پسندیدہ سیاستدانوں کے ساتھ کرنا شروع کردیا ہے۔
اب ایسا تو ممکن ہی نہیں کے ایک ڈرامہ اتنا مشہور ہو رہا ہوں اور سوشل میڈیا پر لوگ اس ڈرامے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار نہ کریں۔

سوشل میڈیا کی ایک ویب سائٹ ٹویٹر پر حنا پرویز بٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ۔
میں آجکل ارتغل دیکھ رہی ہوں اور میں دیکھ رہی ہوں کہ مریم نواز کی قائدانہ صلاحیت ،ان کی ہر صورت ہار نہ ماننے والی صلاحیت۔ ان کا خدا پر یقین اور اپنے اصولوں پر کھڑے رہنے کا حوصلہ ۔یہ سب خصوصیات ارتغل سے ملتی ہیں۔

مائیکل کوگلمین نے بھی اپنے ٹویٹ میں اس بات کا اظہار کیا ۔

اورارتغرل غازی ڈرامے کے مختلف کرداروں کا پاکستانی سیاستدانوں کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے تو صحافی اور اینکر کر فر ید ادریس نے بھی اپنے صارفین سے رائے طلب کرلی کہآپ بتائیں کہ کون سے سیاسی رہنما کی شخصیت ارتغل غازی ڈرامے کے کون سے اداکار سے ملتی ہے۔

 ساتھ  پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا نام بھی شامل کردیا۔

ایک اور صارف نے ترکی ڈرامے کے کچھ اہم کرداروں کی تصویروں کو پاکستانی سیاستدانوں کی تصویروں کے ساتھ جوڑ کر اپنے ٹویٹ میں لگایا۔

ڈاکٹر شہباز گل اپنے ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ ارطغرل  غازی میں دکھایا گیا ہے کہ غدار پہلے حکومتی نظام چلاتے تھے جو ہی حالات خراب ہوئے تو دشمنوں کے پاس جا کے پناہ لینے لگے آج بھی کچھ لوگ اور خاندان بھاگ کر دوسرے ملک جا بیٹھے ہیں

اس کے علاوہ نفیسہ شاہ نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کچھ سوال کیے اور کہا کہ پاکستان میں ترکی ڈرامے کیوں دکھائے جا رہے  ہیں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے ترکی ڈرامے دکھانے سے ہماری اپنی روایات اور تاریخ پر اثر پڑے گا۔

یہ بھی پڑہیں:ارتغل غازی کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو دوبارہ بحال کیا جائے گا- بڑے انکشافات
ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ اور اپنی روایات اور قوانین کو ڈرامے کی شکل میں دکھانا چاہئے نہ کہ ترکش۔