pubg ban in pakistan

پب جی موبائیل گیم پر پابندی کا فیصلہ

-کیا پب جی پر پابندی لگ سکتی ہے
لاہور ہائیکورٹ میں کچھ عرصہ پہلے ایک شہری نے درخواست جمع کروائی اور مطالبہ کیا کہ بچوں پر پبجی کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں دراز میں اس نے مزید کہا کہ اس کھیل کو ہر بچہ کھیل رہا ہے ہے اور سب کو اس کا شدید نقصان پہنچ رہا ہے ہے ان کی دماغی حالت پر
ایک بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔


پاکستان صرف پہلا ملک نہیں ہوگا جو پبجی جیسی گیم پر پابندی عائد کرے گا گا اس سے پہلے بھی کچھ ممالک جس میں نیپال عراق بہارت جیسے ملکوں پہ بھی گیمو پر پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔
چائنا نے بھی اس گیم کو اپنے ملک میں بین کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔
ماہر قانون نے بتا دیا کہ عدالت نے بچوں کے پسندیدہ اور مشہور زمانہ ویڈیو گیم پر پابندی لگانے سے متعلق پی ٹی اے کو چھ ہفتے میں فیصلہ کا حکم دے دیا ہے تفصیلات کے مطابق بچوں اور بڑوں میں مقبول ترین ویڈیو گیم ان دنوں پب جی ہے اور نہ صرف بچے بلکہ بڑی عمر کے افراد بھی ایڈونچر سے بھرپور اس گیم کو کھیلتے نظر آتے ہیں لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اس گیم کے باعث بچوں کی دماغی صحت متاثر ہو رہی ہے ویڈیو گیم زیادہ وقت صرف کرنے کے باعث بچے اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت نہیں گزار پا رہے جس کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں پب جی پر پابندی عائد کرنے کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے چھ ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ گیم جو کھیلنے سے بچوں میں قوت فیصلہ ختم ہوجاتی ہے ان کے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جو معاشرے کے لیے بھی اچھے نہیں ہیں

یہ بھی پڑھیں  انٹرنیٹ کیسے کام کرتا ہےاورگورنمنٹ انٹرنیٹ کیسے بند کرتی ہے

ماہر قانون ایڈوکیٹ بلال ریاض کا کہنا ہے کہ پبجی گیم جی گرافکس اس طرح سے تیار کی گئی ہیں کہ بچے خودساختہ طور پر اس طرف مائل ہوجاتے ہیں جس کے باعث ان کا رابطہ اپنے اہلخانہ والدین سے کم ہوجاتا ہے ایڈوکیٹ بلال ریاض کا کہنا تھا کہ اس گیم کا ایک راؤنڈ چالیس منٹ کا ہے۔جس میں آپ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنا ہوتا ہے آپ کی ایک ٹیم ہوتی ہے جو مل کر کچھ فیصلے لیتی ہے اور لوگوں کو مارتی ہے۔تمام لوگ ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں اور مل کر کھیلتے ہیں۔ اور اگر کوئی کھلاڑی ذرا سستی دکھاتا ہے تو اسے گیم سے آؤٹ ہونا پڑتا ہے اسی لیے بچے زیادہ سے زیادہ وقت اس گیم پر گزارتے ہیں تاکہ جیت سکے تاہم اس وجہ سے بچوں کے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ہمارے قانون کا کہنا تھا کہ یقینا صورتحال قدر خطرناک ہے کہ لاہور میں ایک بچہ مذکورہ ویڈیو گیم کی وجہ سے خودکشی بھی کر چکا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے پابندی کے بعد پبجی ویڈیو گیم ایپ سٹور پر بھی موجود نہیں رہے گا اور ہو سکتا ہے کہ مختلف سائٹس پر سے بھی ہٹا دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے کے چند طریقے