66

دنیا میں موجود مختلف اقسام کے خطرناک وائرس اور ان کی تاریخ۔

جیسے جیسے میڈیکل فیلڈ میں ترقی ہو رہی ہے ویسے ہی نئی نئی بیماریاں پیدا ہو رہی ہے آج کل کرونا وائرس نے انسانوں کو خطرے میں ڈال رکھا ہے لیکن اس سے پہلے دنیا ایسے کۂی خطرناک وائرس کا سامنا کرچکی ہے آج اس آرٹیکل میں ہم انسانی تاریخ کے سب سے خطرناک ترین وائریسیس کے بارے میں جانے گے۔

ایبولا وائرس
سب سے پہلے ایبولا وائرس کا پہلا کیس سن 1960 میں سامنے آیا تھا ایبولا اصل میں کانگو کا ایک دریا ہے جس کے پاس رہنے والے لوگوں میں یہ وائرس سب سے پہلے ٹیسٹ کیا گیا تھا اس کے ایجاد ہونے کے فورا بعد ہی اسے دنیا کا سب سے خطرناک ترین وائرس قرار دے دیا گیا۔اس سے آپ کو بخار ہوتا ہے اور اس کے بعد آنکھوں سے پانی کی بجائے خون نکلنا شروع ہو جاتا ہے اس کے علاوہ بھی جسم کے کئی حصوں میں انٹرنل ایکسٹرنل بلیڈنگ ہوتی ہے جیسے وائرس جسم کو کھا جاتا ہے جسم کے حصے جیسے کہ لیور کیڈنی وغیرہ فیل ہونا شروع ہوجاتی ہے اس وائرس کا ڈاکٹر کے پاس کوئی علاج نہیں ہے اور اتنے سال گزرنے کے باوجود ایبولا وائرس کا آج تک کوئی ٹریٹمنٹ ایجاد نہیں ہوسکا 2012 میں یوگنڈا کے اندر ایبولا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا تھا لیکن افسوس اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

سوائن فلو
9 2 اپریل 2009 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے الان کیا تھا کہ ایچ ون این ون وائرس واپس آگیا ہے اور اس سوائن فلو سے 12469 لوگوں کی جان چلی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے آگاہ کیا کہ یہ تعداد اور بھی زیادہ ہوسکتی ہے یہ وائرس دنیا میں سب سے پہلےانیس سو اٹھارہ میں آیا تھا اس وقت اسے اسپینش فلو کا نام دیا گیا تھا اصل میں یہ وائرس ایک جانور اور سے آیا تها ۔سوائن فلو چونکہ نومسلم میٹ کھاتے ہیں تو اس وجہ سے یہ وائرس ت مسلمانوں میں بھی آگیا تھا اس سے انفیکٹڈ پرسن کو کھانسی ہوتی تھی اور آنکھیں بند ہو جاتی پوری باڈی پر اچانک شدید خارش ہونا شروع ہوجاتی تھی۔

social distancing

سائنس ڈیلی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وائرس نے 500 ملین لوگوں کو ایک کیا تھا جو کہ اس وقت دنیا کی کل آبادی کا تیسرا حصہ تھا اور آج تک اس وائرس کی وجہ سے پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اس ڈینجرس وائرس کی ویکسین تو موجود ہے لیکن کیونکہ یہ ایک اچھوتی بیماری ہے اسی لیے یہ بہت تیزی سے پھیلتی ہے
ڈینگی وائرس
ڈینگی وائرس کو دنیا میں ہونے والی سب سے زیادہ ڈیتھ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے آپ میں سے زیادہ تر لوگ جانتے ہوں گے کہ یہ وائرس انفیکشن مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اس میں شدید بخار ہوتا ہے سر درد ہوتا ہے اور یونہی مر بھی سکتا ہے اچھی بات یہ ہے کہ ڈینگی وائرس کا علاج موجود ہے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ہر سال دس کروڈ عوام ڈینگی وائرس کا شکار ہوتے ہیں اور اس وائرس کی وجہ سے آج تک آٹھ لاکھ 90 ہزار سے زیادہ لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

کرونا وائرس
کرونا وائرس کے بارے میں تو سنا ہو گا اس وقت ساری دنیا ہی اس سے بھری ہوئی ہے 31 دسمبر 2019 کو ورٹ ہیلتھ آرگنائزیشن کو رپورٹ ملی کہ چائنہ کی یونیورسٹی میں کئی لوگوں کو نمونیا ہو رہا ہے اوران میں سے جو وائرس ملا ہے وہ دنیا کی کسی وائرس سے میچ نہیں ہوتا 7جنوری 2020 میں چائنیز اتھارٹیز نے کنفرم کر دیا کہ انہوں نے ایک نیا وائرس کھوجاہے جو کہ کرونا فیملی کا ایک حصہ ہے اس وقت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے متعلق ریسرچ کررہے ہیں اس کے متعلق فلحال تک کوئی کنفرمیشن نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی علاج ہے شروع میں یہ وائرس جب ہوتا ہے تو نزلہ کھانسی اور بخار ہوتا ہے لیکن جیسے ہی لنگز کی طرف جاتا ہے تو انسان کو نمونیا ہو جاتا ہے ابھی تک اس کے8500000 کیس سامنے آچکے ہیں جن میں سے دو لاکھ کی ڈیتھ ہوچکی ہے۔

lungs problems

لاسا
لاسا ایک ایسا وائرس ہے جو کے ہوا کے ذریعے پھیلتا اگر اس وائرس سے انفیکٹڈ انسان کسی کے پاس جاتا ہے تب یہ دوسری میں منتقل ہوسکتا ہے ۔ یہ وائرس چوہوں سے پھیلتا ہے۔ جب چوہا کھانا کھا کر ویسٹ باہر نکلتا ہے تو اس ویسٹ کے قریب موجود ہوا میں یہ وائرس داخل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اگر کوئی شخص اس گندگی کے قریب سانس لے گا تو اس میں داخل ہوجائے گا ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق افریقہ میں ہرسال پانچ سو سے زیادہ لوگ اس وائرس کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یہ فلور سے سٹارٹ ہوتا ہے اور اس میں درد ہونا شروع ہو جاتا ہے اس کے علاوہ سر درد ہوتا ہے اور کئی دفعہ چہرہ بھی سو جاتا ہے ڈاکٹر نے اس کے لئے ایک دوایی نکالی ہے۔جسے یہ وائرس سٹارٹ میں ہوں وہ فورا اس کا استعمال کر لے ورنہ دیر ہونے پر اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

سرس
اس وائرس کا پہلا کیس چائنا کے اندر رپورٹ کیا گیا تھا پر 2002 میں یہ وائرس چائنہ سے نکل کر دنیا کے کئی ممالک میں پھیل گیا۔ جس میں سے 774 لوگ مارے گئے تھے جن میں 349 لوگ چائنا کے تھے ۔ اس وائرس کا ابھی تک کوئی علاج نہیں ہے جو لوگ اس سے بچ گے ان کو بس نورمل ٹریٹمینٹ دیا گیا۔ابھی یو کے کے اندر اس کے علاج کے لیے ریسرچ چل رہی ہے۔

hard problem

ماربرگ وائرس
ماربرگ وائرس کا پہلا کیس انیس سو ساٹھ میں سامنے آیا تھا اس نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کو ٹارگٹ کیا تھا اس لیے اس کا نام مربرگ وائرس رکھا گیا تھا۔ انیس سو اٹھانوے سے لے کر سن دو ہزار تک اس وائرس میں 155 لوگوں کو اثر انداز کیا جن میں سے ایک سو اٹھائیس لوگ مارے گئے اس کے بعد 2004 میں وائرس کے 256 کیس سامنے آئے جن میں سے 227 لوگوں کی جان چلی گئی اس وائرس سے انفیکشن جب کسی سے ملتا ہے تو دوسری طرف منتقل ہوسکتا ہے یہ کھانسی چھینکے مارنے سے بھی یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے اس کا ابھی تک کوئی علاج نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کو ڈاکٹر آکسیجن دیتے ہیں۔ اس کے باوجود تین سے چار فیصد لوگ ہی زندہ بچ پاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں