حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے کیوں نکالا گیا۔

سانپ اور مور کوجنت سے کیوں نکالا گیا۔
سانپ اور مور پہلے جنت میں رہتے تھے۔ جنت میں گھومنے پھرنے اور کھانے پینے کو بہت کچھ تھا لیکن جنت میں اکیلے اور تنہا ہونے کی وجہ سے آدم علیہ السلام اداس رہتے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے بی بی حوا کو پیدا کیا اور یوں حضرت آدم علیہ السلام بی بی حوا کا ساتھ پا کر خوش ہو گئے اور وہ دونوں جنت میں خوش رہنے لگے اللہ تعالی نے ان سے کہا کہ تم دونوں جنت میں جو چاہو کھاؤ پیو گھومو پھرو لیکن خبردار اس درخت کے قریب مت جانا اور نہ ہی اسں کا کوئی پھل کھانا۔
اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں میں سے ہو جائوگے سانپ اور مور بھی اس وقت جنت میں رہتے تھے اور وہ دونوں جنت سے باہر آیا جایا کرتے تھے اس وقت سانپ کے پیر بھی تھے اور سانپ کے منہ سے ابرک کی بہت اچھی خوشبو آتی تھی اور مود جتنا بھی خوبصورت ہے وہ اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہوا کرتا تھا جب وہ جنت میں رہتا تھا اور مور کے پاؤں بھی بہت زیادہ خوبصورت تھے ایک دن جب وہ دونوں جنت کے باہر آئے تو ان کی ملاقات شیطان سے ہوئی۔

peacock

شیطان نے ان دونوں سے کہا کہ مجھے بھی اپنے ساتھ جنت میں لے چلوں تو ان دونوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں اللہ تعالی کا خوف ہے اور اس بات کا ڈر کی ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ جنت میں لے جاتے ہوئے ہمیں کوئی دیکھ نہ لے اس لیے ہم تمہں اپنے ساتھ جنت میں نہیں لے جاسکتے اس پر شیطان نے انہیں اپنی دوستی کا واسطہ دیا کہ ہم جنت میں ساتھ رہے ہیں مجھے بھی جنت میں لے چلو اس پر سانپ نے شیطان کو مشورہ دیا کہ تم سانپ بن جاؤ اور مور کے منہ میں بیٹھ جانا اور وہ تمہیں جنت میں لے جاکر أغل دے گا اور اس طرح تمہیں کوئی دیکھ نہیں سکے گا شیطان سانپ بن گیا اور مور نے اسے نگل لیا اور جنت میں لے جاکر اوگل دیا اس طرح شیطان دوبارہ جنت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا شیطان نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں تم نے جنت میں ابھی تک اس پھول کو کیوں نہیں کھایا اس پر دونوں نے شیطان سے کہا کہ اللہ تعالی نے ہمیں اس درخت سے دور رہنے اور اس کا پھل کھانے سے منع کیا ہے اس لیے ہم نے ابھی تک اس کو نہیں کھایا اور نہ ہی کھائیں گے جب حضرت آدم علیہ السلام سو گئے تو شیطان اماں حوا کے پاس آیا اور انہیں بہکانے لگا کہ اللہ تعالی نے تمہیں پھل کھانے سے اس لئے منع کیا ہے کہ کہیں وہ پھل کھانے کے بعد تم نا مرنے والے بن جاؤ اور ہمیشہ کے لئے جنت میں رہنے لگوں بی بی حوا نے شیطان کے بہکاوے میں آکر اس درخت کا پھل کھا لیا ۔

یہ بھی پڑھیں  شراب کتنے فیصد اسلام میں حلال ہے۔ مفتی عبدالقوی کا انکشاف
snake
snake

حضرت آدم علیہ السلام سو کر اٹھ گئے تو بی بی حوا نے انہیں بھی اس درخت کا پھل کھانے پر مجبور کیا اور وہ پھل حضرت آدم علیہ السلام کو بھی کھلا دیا جیسے ہی ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھایا تو ان کا جنت کا لباس اُتر گیا تبھی اللہ تعالی نے ان دونوں سے کہا کہ میں نے تمہیں اس درخت کے پاس جانے سے اور اس کا پھل کھانے سے اس لیے منع کیا تھا لیکن تم دونوں نے میری بات نہ مان کر اور اس درخت کا پھل کھا کر اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے تبھی حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور انہوں نے اللہ تعالی نے غلطی کی معافی مانگیں اللہ تعالی نے انہیں معاف فرمادیا اور ان دونوں کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا اور فرمایا کہ زمین پر ایک خاص وقت تک تمہارا ٹھکانہ ہے اور تم زمین پر ہوں گے اللہ تعالی نے شیطان کو جنت میں لے کر آنے پر مور کی خوبصورتی چھین لی اور جن پیروں سے وہ شیطان کو جنت میں لے کر آیا تھا انہیں بدصورت بنا دیا اور جس سانپ نے مور کو شیطان کی مدد کرنے کا مشورہ دیا تھا اللہ تعالی نے اس کے منہ سے ابرک کی خوشبو چھین کر سانپ کے منہ میں زہر بھر دیا اور سانپ کی ٹانگیں چھین کر مور اور سانپ کو جنت کی اس خوبصورت جگہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکال دیا۔

یہ بھی پڑھیں  چین کو پاکستان کی ضرورت کیوں ہے کچھ اہم ترین وجوہات