actemra inection for covid-19 158

ایکٹیمرا انجکشن کرونا وائرس کے لئے کتنا فائدہ مند اور اس کے نقصانات

کرونا وائرس کے اس دور میں ہم کتنے اسلام کے نزدیک ہیں اور پیسے کے لئے کیا کچھ کرسکتے ہیں، جاننے کا موقع ملا ہے۔جیسے ہی یہ وائرس پاکستان میں اپنی حد تک پہنچا تو مارکیٹ سے ماسک غائب ہو گئے، 10روپے والاماسک پہلے تو مل ہی نہیں رہا تھا۔ کچھ دنوں بعد 10 والا ماسک 100 سے 200روپے کا سیل ہوتا دکھائی دیا۔یہی حالات میڈیسن کے ساتھ ہونا شروع ہو چکا ہے۔ جیسے ہی کوئی گورنمنٹ کسی میڈیسن کا علان کرتی ہے کہ یہ اس وائرس میں کام آسکتی ہے وہ میڈیسن مارکیٹ سے راتوں رات غائب ہو جاتی ہے۔ایسا ہی کچھ ‘ایکٹیمرا’ انجکشن کے ساتھ کچھ دنوں میں ہوا۔

ایکٹیمرا انجکشن کیا ہے؟

ایکٹمرا ایک انجکشن ہے جس کو مختلف ممالک میں ٹرائل کیا گیا کرونا کے مریضوں پر۔ اس کے رزلٹ خاطر خواہ اچھے پوصؤل ہونے پر پاکستان کی حکومت نے بھی کچھ علاقوں میں ٹرائل کی اجازت دے دی۔ ہمارے جسم کے اندر کچھ سیلز ہوتے ہیں جن کا کام وائرسز کے خلاف لڑنا ہوتا ہے۔ عمومنا یہ سوئے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی وائرس ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے یہ جاگ جاتے ہیں اور اس کے خلاف لڑتے ہیں۔لیکن کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ یہ بہت زیادہ ایکٹیو ہو جاتے ہیں اور خود کے جسم کو ہی نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں۔اتنا وائرس نقصآن نہیں پہنچاتا جتنا یہ کر دیتے ہیں۔ ان حالات میں ایکٹیمرا انجکشن کو کام میں لایا جاتا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ انجکشن ہر مریض کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔اس انجکشن کی قیمت عام طور پر پاکستانی 29ہزارروپے کے قریب تھی۔ لیکن جیسے ہی حکومت نے ٹرائل شروع کروائے، یہ انجکشن مارکیٹ سے غائب ہو گیا اور بلیک میں 2 سے 3لاکھ روپے کا بکنا شروع ہو گیا۔لوگوں کو اس کا پتہ بھی نہیں کہ یہ کن لوگوں کے لئے ہے اور کن لوگوں پر یہ اثر کر سکتا ہے۔ جن کو کرونا ہو رہا تھا انہوں نے لینا شروع کر دیا ۔

ایکٹیمرا کے نقصان؟

ایکٹیمرا انجکشن ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جن کو ابھی ابھی کرونا ہوا ہے۔ بلکہ یہ ان کے لئے ہے جو 14دنوں سے قرنطینہ ہیں لیکن کچھ فرق نہیں پڑا۔ اور تو اور یہ ان لوگوں کے لئے بھی نہیں جن کو پہلے کوئی موذی بیماری ہو چکی ہو جیساکہ ٹی بی وغیرہ۔ کیونکہ اگر ایسا ہے تو یہ انجکشن ان بیماریوں کو دوبارہ سے جگا سکتا ہے اور پہلے سے زیادہ خراب کر سکتا ہے۔ یہ انجکشن عام طور پر جوڑون کے درد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔

ہم عظیم مسلمانوں کی وجہ سے حکومت کو ایکٹیمرا کی سیل پر بین لگانا پڑا، تا کہ یہ صرف اور صرف ان لوگو ں کے کام آسکے جن کو واقعی میں اس کی ضرورت ہے۔ خواہ مخواہ نیم حکیم بن کر پیسہ اور اپنی جان کو داؤ پر نہ لگائیں۔ خاص طور یوٹیوب کے نیم حکیموں سے بچیں جو طرح طرح کے ٹوٹکے بتا رہے ہوتے ہیں۔کوئی میڈیسن یا انجکشن کب استعمال کرنا ہے اور کیا وہ آپ کے لئے سہی ہے اس کا فیصلہ ڈاکٹرز کو کر لینے دیں۔

امید ہے آپ کو اس آرٹیکل میں کچھ نیا سیکھنے ملا ہو گا۔ اسی طرح کے آرٹیکلز کے لئے انگلی پوائنٹ کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو لائک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں