68

ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے کے چند طریقے

اگر آپ کسی حادثے سے بچ جاتے ہیں تو دوسرے چار طریقے ہیں جن سے آپ ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں عمر خضر کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جسم کا جو حصہ بوڑھا ہونے لگے اسے تبدیل کروا لیا جائے یعنی ٹرانسپلانٹ کروا لیا جائے اس طرح ہمیشہ جسم نیا اور جوان رہے گا لیکن اس میں ایک مشکل یہ ہے کہ ہمہارا جسم ہر قسم کا ٹرانسپلانٹ قبول نہیں کرتا چاہے وہ کسی قریبی رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو یعنی یہ طریقہ سو فیصد کامیاب نہیں ہے ۔
دوسرا طریقہ بھی ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کو بھی اپنے جسم کا ایک حصہ تبدیل کروانا پڑے اسے کسی سے ڈونیشن یا اس کا کوئی عضہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنے جسم کا وہ حصہ تری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے بنوا سکتا ہے۔ اور یہ ٹیکنالوجی اس وقت کام کر رہی ہے دنیا بھر میں امیر ترین لوگ اپنے آزاد تھری ڈی ٹیکنالوجی سے بنوا رہے ہیں ۔لیکن یہ تکنیک ابھی اتنی ترقی یافتہ نہیں ہوئی کہ تمام عضہ بنائے جا سکیں۔ ہاں سائنسدان یہ کہتے ضرور ہیں کہ بہت جلد یہ ہونے والا ہے اب ہوگا تب دیکھا جائے گا فی الحال تو ایسا سو فیصد ممکن نہیں ہاں۔

A few ways to live forever You will not be able to die


ایک تیسرا طریقہ ہے جسے چند لوگ استعمال کر رہے ہیں امیر ترین لوگ ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے جو طریقہ استعمال کر رہے ہیں وہ دی فریزنگ کا ہے۔ امریکی ریاست ایریزونا کے صحرا میں الفقر نام کا ادارہ یہ کام کر رہا ہے اس کے پاس سو سے زائد ایسے مرحوم لوگ آرام کی نیند سو رہے ہیں جنہیں سرد خانوں میں محفوظ کرلیا گیا ہے ان کے دماغوں کو آکسیجن دی جارہی ہیں تاکہ مستقبل میں جب کبھی سائنس تمام بیماریوں پر فتح پا لے تو انہیں زندگی میں واپس لانے کی کوشش کی جائیں جس کا چانس50 50 ہے۔

A few ways to live forever You will not be able to die


ایک اور طریقہ بھی ہمیشہ زندہ رہنے کا ہے اور وہ یہ کہ اپنی تمام یاداشت اور شکل و صورت کا ذہین روبوٹ تیار کروایا جائے اور آپ مانیں یا نہ مانیں یہ بھی ہو رہا ہے اس روبوٹ میں آپ کی تمام معلومات یادداشت اور حالات منتقل کر دیے جاتے ہیں اور یہ سوالات کا جواب بھی دیتا ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ بالکل ہماری طرح ہو سکے گا موقعے کی مناسبت دیکھ کر کچھ باتیں سنا سکے گا۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی طریقہ نکال کر بھی ہمیشہ زندہ رہ سکیں تو بھی ایک مشکل آ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اگر ہمیشہ زندہ رہنے کا کوئی آسان اور سستا فارمولا ہاتھ آگیا تو دنیا کی آبادی اتنی بڑھ جائے گی ایک وقت آئے گا جب زمین پر کھڑے ہوں گے اور اتنا رش ہوگا کہ سانس لینا تک دو بھر ہو جائے گا لیکن سائنسدانوں اس کا حل بھی نکال لیا ہے ۔اور وہ حل یہ ہے کہ دنیا کے کچھ انسانوں کو دوسرے سیاروں پر منتقل کر دیا جائے جائے جیسے کہ چاند یا مریخ پر۔

A few ways to live forever You will not be able to die


بہت سے انسانوں کو دوسرے سیاروں پر منتقل کرنے کا کام بہت جلد شروع ہو جائے گا اس کے بارے میں آرٹیکل پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں